World
امریکی اور حوثی حکام کی عمان میں ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو
امریکی حکام نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں عمان میں ایران حمایت یافتہ حوثیوں کے نمائندوں کے ساتھ اہم ملاقات کی ہے۔ اس مذاکرات کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور بحری سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے ذرائع کے مطابق، امریکی حکام نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں عمان میں ایران کے حامی حوثی گروپ کے نمائندوں کے ساتھ اہم مذاکرات کیے ہیں۔ یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں بح بحیرہ احمر کی صورتحال اور تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔ ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان رابطے کا مقصد براہ راست بات چیت کے ذریعے کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا اور ممکنہ سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔
عمان روایتی طور پر مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس نے ماضی میں بھی امریکہ اور خطے کے مختلف فریقین کے درمیان اہم رابطے آسان بنائے ہیں۔ تازہ ترین ملاقات کے حوالے سے تاحال واشنگٹن یا حوثی قیادت کی جانب سے کوئی باضابطہ اور تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم سیاسی مبصرین اسے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سے امریکہ خطے میں مسلسل فوجی اور سفارتی سطح پر سرگرم عمل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے پس پردہ رابطے اس بات کی علامت ہیں کہ دونوں فریقین فوجی محاذ آرائی کو کسی بڑی جنگ میں بدلنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی جہاں ایک طرف حوثیوں کے حملوں کو روکنے کے لیے دفاعی اقدامات کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف سفارتی چینلز کو بھی کھلا رکھا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ناگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ عمان میں ہونے والی یہ ملاقات اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھی جا رہی ہے جس کے آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔