LIVE
Loading Breaking News...

امریکی عدالت کا غیر ملکی طلباء کے ویزا قوانین سے متعلق بڑا فیصلہ

News Image
ایک امریکی وفاقی عدالت نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں متعارف کرائے جانے والے ان قوانین پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے جن کے تحت غیر ملکی طلباء کے قیام کی مدت کو محدود کیا جا رہا تھا۔ اس عدالتی حکم سے ہزاروں بین الاقوامی طلبا کو بڑی راحت ملی ہے جو امریکہ میں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکہ میں ایک وفاقی عدالت نے بین الاقوامی طلباء کے ویزا اور قیام کی مدت سے متعلق نئے سخت قوانین کے نفاذ کو روک دیا ہے۔ یہ قوانین سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں تیار کیے گئے تھے، جن کا مقصد امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبا کی موجودگی کے ضوابط کو تبدیل کرنا اور ان پر کڑی نظر رکھنا تھا۔ عدالت کی جانب سے جاری کردہ حکم امتناعی کے بعد ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کو اس متنازع فیصلے پر فوری عمل درآمد کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ عدالت کے اس اقدام سے امریکہ کی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہزاروں غیر ملکی طلبا اور ان کے اہل خانہ میں پائی جانے والی بے یقینی کی فضا وقتی طور پر ختم ہو گئی ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی طلبا کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے، کیونکہ مجوزہ قوانین کے تحت 'ڈیوریشن آف اسٹیٹس' کی سہولت کو ختم کیا جا رہا تھا، جس کے باعث طلباء کو اپنی تعلیم مکمل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ اس نئے ضابطے کے تحت بین الاقوامی طلبا کو اپنی پڑھائی کے دورانیے کے حوالے سے سخت اور پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑتا اور چھوٹی سی غلطی پر بھی انہیں ملک بدر کیے جانے کا خطرہ لاحق تھا۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد تعلیمی حلقوں اور تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی طرف سے اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ قانونی جنگ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید عدالتی کارروائی متوقع ہے، جس کے بعد ہی اس فیصلے کا مستقل مستقبل طے ہو سکے گا۔