Business
ایل این جی مارکیٹ اور آبِ ہرمز کی بندش کا بحران
آبِ ہرمز کی طویل بندش کے پیش نظر عالمی ایل این جی مارکیٹ کو شدید بحران اور بلند قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ توانائی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس آبراہ کا دوبارہ کھلنا فوری طور پر عالمی گیس کی قلت کا حل ثابت نہیں ہوگا۔
عالمی توانائی کی منڈیوں میں اس وقت شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جب جاپانی شپنگ کمپنیوں اور توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آبِ ہرمز کی ممکنہ طویل بندش عالمی ایل این جی (LNG) مارکیٹ کو ایک بڑے بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔ اس صورتحال نے پاکستان، چین اور بھارت سمیت کئی ایشیائی ممالک کی توانائی کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں، جہاں ایل این جی کی بلند قیمتیں پہلے ہی صارفین اور صنعتوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، آبِ ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راہداریوں میں شامل ہے اور اس کی بندش کے اثرات طویل مدت تک محسوس کیے جائیں گے۔
قطر کی جانب سے ایل این جی کی فراہمی میں ممکنہ تعطل نے آنے والے سردیوں کے موسم میں گیس کے بلوں میں اضافے کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے، جس کی وجہ سے گیس کی قیمتیں گزشتہ چار سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ ایشیا کے بڑے خریدار ممالک، جن میں پاکستان، چین اور بھارت شامل ہیں، اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے بعد ان ممالک میں ایل این جی کی طلب میں ایک بار پھر زور دار واپسی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے کے سرکردہ رہنماؤں نے یہ انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ اگر مستقبل میں آبِ ہرمز کو دوبارہ کھول بھی دیا جائے، تو یہ عالمی سطح پر گیس کے بحران کا کوئی فوری اور حتمی حل ثابت نہیں ہوگا۔ مارکیٹ میں معمول کی بحالی کے لیے انفراسٹرکچر کی مرمت، سپلائی چین کے تسلسل اور شپنگ کے نظام کو پٹری پر لانے کے لیے کافی وقت درکار ہوگا۔ اس تمام صورتحال میں حکومتوں اور صنعتی اداروں کو متبادل توانائی کے ذرائع تلاش کرنے اور ہنگامی بنیادوں پر حکمت عملی مرتب کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کو شدید ترین سردیوں میں گیس کی قلت سے بچایا جا سکے.