World
شہزادی ڈیانا کی نئی کتاب کی نقول ریلیز سے قبل چوری
شہزادی ڈیانا کے بھائی ارل اسپینسر کی نئی متنازع کتاب کی کئی نقول ہالینڈ میں ایک لاری پر ہونے والے حملے کے دوران چوری کر لی گئی ہیں۔ اس کتاب میں شہزادی ڈیانا اور شاہی خاندان کے ردعمل سے متعلق کئی اہمکشیدہ حقائق بیان کیے گئے ہیں۔
برطانوی شاہی خاندان کی ماضی کی مقبول ترین شخصیت شہزادی ڈیانا کی زندگی اور ان کی موت کے بعد شاہی ردعمل پر لکھی جانے والی ان کے بھائی ارل اسپینسر کی نئی اور متنازع کتاب کو ریلیز سے قبل ہی ایک بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہالینڈ میں ایک لاری پر ہونے والے ڈکیتی یا چوری کے واقعے میں اس کتاب کی کئی قیمتی اور اہم نقول چوری کر لی گئی ہیں، جس نے مصنف اور پبلشرز کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ارل اسپینسر کی یہ نئی کتاب شہزادی ڈیانا کی زندگی کے ان کہے گوشوں، ان کی المناک موت اور اس سانحے پر برطانوی شاہی محل یعنی کنگ چارلس اور دیگر شاہی افراد کے ردعمل کے حوالے سے انتہائی اہم اور سنسنی خیز انکشافات کی حامل بتائی جاتی ہے۔ مصنف کا دعویٰ ہے کہ اگر شہزادی ڈیانا آج زندہ ہوتیں تو وہ اپنی بہن کے حوالے سے لکھی گئی اس کتاب کی مکمل توثیق کرتیں کیونکہ اس میں حقائق کو ایمانداری کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔
اس کتاب کی اشاعت سے قبل ہی اس طرح کی چوری کی واردات اور غیر متوقع تاخیر یا رکاوٹوں نے دنیا بھر میں شاہی مبصرین کی توجہ مبذول کروا لی ہے۔ شاہی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کتاب کے بازار میں آنے سے برطانوی شاہی خاندان کے اندرونی حلقوں میں ایک بار پھر ہلچل مچ سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب شہزادہ ہیری کے تنازعات بھی پہلے ہی سرخیوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔
پبلشرز اور متعلقہ حکام چوری شدہ نقول کے منظر عام پر آنے کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔ دوسری طرف عوام اور قارئین میں اس کتاب کے حوالے سے تجسس میں مزید اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ اس واقعے نے اس کی مواد کی حساسیت اور اہمیت کو اور زیادہ اجاگر کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کتاب کی باضابطہ رونمائی اور اس کے اثرات پر بین الاقوامی میڈیا کی گہری نظر رہے گی۔