LIVE
Loading Breaking News...

برہم کا ٹیکس اور خرچ کے الزامات پر ردعمل اور بجٹ تیاری

News Image
برطانوی وزیر اعظم نے آئندہ ماہ کے بجٹ میں مشکل فیصلے کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ناقدین کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
برطانیہ کے سیاسی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب وزیراعظم کے حوالے سے مختلف تبصرے سامنے آئے۔ برہم نے اپنے ناقدین کی جانب سے لگائے جانے والے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں انہیں 'ٹیکس اور خرچ کرنے والا سوشلسٹ' قرار دیا جا رہا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کو اس وقت معاشی چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے حقیقت پسندانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ برہم کا کہنا ہے کہ وہ ملک کی بہتری کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہیں اور اس حوالے سے کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ حکومت کی جانب سے آئندہ ماہ پیش کیے جانے والے بجٹ کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ اس پس منظر میں وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ملک کو درپیش معاشی مسائل کے حل کے لیے کڑے اور مشکل فیصلے کرنے سے بالکل گریز نہیں کریں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والا بجٹ ملکی معیشت کی سمت متعین کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گا، یہی وجہ ہے کہ حکومت ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھا رہی ہے تاکہ عوام اور کاروباری طبقے کو اعتماد میں لیا جا سکے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور بعض معاشی ماہرین کی طرف سے حکومتی پالیسیوں پر مسلسل تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں میں اضافے سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، حکومتی ترجمانوں اور خود وزیراعظم نے ان خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فیصلے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جا رہے ہیں تاکہ طویل مدت میں ملک کو ایک مستحکم معاشی بنیاد فراہم کی جا سکے۔ آئندہ ماہ پیش ہونے والے اس بجٹ پر نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ عام عوام کی بھی گہری نظریں لگی ہوئی ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت ان مشکل فیصلوں کے باوجود معاشی استحکام حاصل کرنے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے اور سیاسی محاذ پر اسے کس قسم کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔