Business
دکانوں میں چوری کے واقعات: دکان داروں کا اوقات کار میں دروازے بند رکھنے پر مجبور
برطانیہ سمیت مختلف علاقوں میں دکانوں میں چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات نے کاروباری شخصیات کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بڑھتے ہوئے نقصانات کی وجہ سے اب دکان داروں کو اپنے کاروباری اوقات کے دوران بھی دکانوں کے دروازے تالے لگا کر بند رکھنے پڑ رہے ہیں۔
ریٹیل کے شعبے سے وابستہ کاروباری شخصیات نے دکانوں میں چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان کے منفی اثرات سے پردہ اٹھایا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دکانوں میں چوری کے ریکارڈ شدہ جرائم اب بھی کورونا کی عالمی وبا سے پہلے کی سطح سے نمایاں طور پر اوپر ہیں۔ اس تشویش ناک صورتحال نے چھوٹے اور بڑے دونوں درجے کے تاجروں کو شدید مالی نقصان سے دوچار کر رکھا ہے، جس سے ان کا روزمرہ کا کاروبار بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔ سیکیورٹی کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد دکان داروں اور کاروباری مالکان نے اب انتہائی اقدامات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ کئی علاقوں میں دکانوں کے مالکان نے اپنے کاروباری اوقات کے دوران بھی گاہکوں کے داخلے کو کنٹرول کرنے کے لیے دکان کے دروازے اندر سے بند یا لاک رکھنا شروع کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد نامعلوم چوروں اور غنڈہ عناصر کی طرف سے اچانک چوری کی وارداتوں کو روکنا اور دکان میں موجود قیمتی سامان اور نقد رقوم کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے موثر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے وہ خود کو اس طرح کے حفاظتی طریقوں تک محدود کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس قسم کے اقدامات سے نہ صرف دکان داروں کا ذہنی سکون متاثر ہو رہا ہے بلکہ عام گاہکوں کو بھی خریداری کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے بالواسطہ طور پر کاروباری لین دین کی رفتار سست ہو رہی ہے۔ معاشی ماہرین اور ریٹیل ایسوسی ایشنز نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور دکان داروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سخت قانونی اقدامات کریں تاکہ تجارتی سرگرمیاں بغیر کسی خوف کے معمول کے مطابق جاری رہ سکیں۔