LIVE
Loading Breaking News...

واٹس ایپ پر فحش ویڈیوز شیئر کرنے والا سابق اہلکار قید

News Image
برطانیہ میں ایک سابق پولیس اہلکار کو واٹس ایپ پر فحش ویڈیوز شیئر کرنے اور اختیارات کا غلط استعمال کرنے پر چار سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ عدالت نے اس اقدام کو انتہائی غیر پیشہ ورانہ اور توہین آمیز قرار دیا ہے۔
برطانیہ میں ایک سابق پولیس اہلکار کو واٹس ایپ کے ذریعے ایک مشتبہ شخص کی نامناسب ویڈیو ساتھیوں کے ساتھ شیئر کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر چار سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ عدالت میں یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ سابق اہلکار نے فٹ بال ٹیم کے ساتھیوں کو دکھانے کے لیے ایک تفتیشی معاملے سے وابستہ فحش ویڈیو حاصل کی تھی۔ اس نوعیت کے عمل کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر بدترین پیشہ ورانہ بدطیاری اور واٹس ایپ کلچر کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پولیس جیسے حساس ادارے میں اس قسم کی حرکتیں قطعی طور پر ناقابل قبول ہیں اور اس سے عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے بتایا کہ ملزم نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے حساس مواد تک رسائی حاصل کی اور اسے غیر متعلقہ افراد میں تقسیم کیا۔ اس واقعے کے بعد پولیس محکمے کے اندرونی کلچر اور واٹس ایپ گروپس کے غلط استعمال پر بھی شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف پیشہ ورانہ اخلاقیات کے منافی ہیں بلکہ یہ مجرمانہ فعل کے زمرے میں بھی آتے ہیں، جس کی قانون میں کڑی سزا مقرر ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ قانون کا نفاذ کرنے والوں کو خود قانون کی پاسداری کرنی چاہیے اور اس طرح کے گھناؤنے جرائم میں ملوث اہلکاروں کے لیے نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں واٹس ایپ پر پولیس اہلکاروں کے طرزِ عمل اور باہمی رابطوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کا سدباب کیا جا سکے اور محکمے کی ساکھ کو بچایا جا سکے۔