World
کوسوو کے سابق صدر ہاشم تھاسی کو جنگی جرائم میں 25 سال قید
کوسوو کے سابق صدر ہاشم تھاسی کو سربیا کے خلاف جنگ آزادی کے دوران قتل اور تشدد سمیت مختلف جنگی جرائم کے ارتکاب پر 25 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کو عالمی سطح پر انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
کوسوو کے سابق صدر ہاشم تھاسی کو سربیا کے خلاف جنگِ آزادی کے دوران سنگین نوعیت کے جنگی جرائم کا مرتکب پائے جانے پر عدالت نے پچیس سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ ہاشم تھاسی پر عائد کیے جانے والے الزامات میں قتل، غیر قانونی حراست، اور تشدد جیسے سنگین انسانی حقوق کی پامالیاں شامل ہیں جو انہوں نے نوے کی دہائی کے اواخر میں تنازعے کے دوران کی تھیں۔ اس فیصلے کا اعلان ایک خصوصی عدالت کی جانب سے کیا گیا ہے جو جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کے لیے قائم کی گئی تھی۔ فیصلے کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور ماضی کے مظالم پر پردہ نہیں ڈالا جا सकता۔ ہاشم تھاسی کوسوو کی جنگِ آزادی کے دوران ایک نمایاں رہنما اور کوسوو لبریشن آرمی کے سیاسی رہنما کے طور پر ابھرے تھے، اور بعد میں وہ ملک کے صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے تھے۔ ان کی گرفتاری اور بعد ازاں ٹرائل کوسوو کی تاریخ میں ایک انتہائی حساس معاملہ سمجھا جا رہا تھا کیونکہ انہیں ایک قومی ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ تاہم، عدالت نے شواہد کی بنیاد پر یہ فیصلہ دیا کہ جنگ کے دوران عام شہریوں کے خلاف ہونے والے جرائم ناقابلِ معافی ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ بلقان کے خطے میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور جنگ زدہ علاقوں میں قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے متعدد گواہوں کے بیانات اور دستادیزی ثبوت پیش کیے جن سے یہ ثابت ہوا کہ سابق صدر براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث تھے۔ کوسوو کے اندر اور باہر اس عدالتی فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں ایک طرف متاثرہ خاندانوں نے انصاف ملنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، وہیں دوسری طرف ان کے حامیوں میں افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔