World
لوسی لیبی کیس اور تھرلوال انکوائری: ہسپتال انتظامیہ پر سنگین الزامات
تھرلوال انکوائری کے دوران ہسپتال کے اعلیٰ حکام کی جانب سے سنگین خدشات پر کارروائی نہ کرنے کے متعدد انکشافات سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کے قانونی نمائندے نے ہسپتال انتظامیہ کو پولیس سے رابطہ کرنے میں غیر ضروری تاخیر کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
برطانیہ کے چرچ میں ہونے والے انتہائی حساس اور دردناک لوسی لیبی کیس کے حوالے سے تھرلوال انکوائری میں ایک بار پھر اہم اور چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کے وکیل نے باضابطہ طور پر ہسپتال کے اعلیٰ حکام کو اس بات کا براہ راست ذمہ دار قرار دیا ہے کہ انہوں نے پولیس کو بروقت مطلع کرنے میں غیر ذمہ دارانہ تاخیر سے کام لیا۔ وکیل کا کہنا ہے کہ اگر ہسپتال کی انتظامیہ بروقت اقدامات اٹھاتی اور پولیس کو بروقت باخبر کرتی تو اس المیے کی شدت کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا تھا، لیکن انتظامیہ نے مبینہ طور پر معاملات کو دبانے کی کوشش کی۔
تھرلوال انکوائری کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ہسپتال کے ذمہ داران کو اس تمام صورتحال کا پہلے ہی سے علم تھا لیکن بارہا خدشات ظاہر کیے جانے کے باوجود مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔ انکوائری رپورٹ میں اس امر پر شدید تنقید کی گئی ہے کہ کس طرح مریضوں کی حفاظت کو نظر انداز کرتے ہوئے ادارے کی ساکھ کو بچانے کو ترجیح دی گئی۔ اس صورتحال نے نہ صرف برطانوی ہیلتھ سسٹم بلکہ مجموعی طور پر طبی اداروں میں موجود نگرانی کے نظام پر بھی بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، جہاں اعلیٰ افسران نے اپنے فرائض سے روگردانی کی۔
متاثرہ خاندانوں نے انکشافات کے بعد اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام غفلت برتنے والے افسران کا بلا تاخیر محاسبہ کیا جانا چاہیے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ہسپتال کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے بروقت کارروائی نہ کرنا کسی بڑے جرم میں سہولت کاری کے مترادف ہو سکتا ہے۔ اس کیس نے پورے ملک میں طبی شعبے کی شفافیت، انتظامی احتساب اور مریضوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئے قوانین اور سخت ضوابط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ہولناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔