LIVE
Loading Breaking News...

شمالی آئرلینڈ میں قاتل کی جیل سے فرار پر عدالتی وضاحت

News Image
سال 2018 میں قتل کے جرم میں پندرہ سال قید کی سزا کاٹنے والا گری اینڈرسن جیل واپس نہ پہنچنے کے بعد تاحال مفرور ہے۔ عدالت اور متعلقہ حکام نے اس کی ہمدردانہ بنیادوں پر رہائی کے حوالے سے تفصیلات جاری کی ہیں۔
شمالی آئرلینڈ میں قتل کے ایک سنگین معاملے میں سزا یافتہ مجرم کی ہمدردانہ بنیادوں پر رہائی اور اس کے مقررہ وقت پر جیل واپس نہ لوٹنے کے واقعے نے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گری اینڈرسن نامی مجرم سنہ 2018 میں لنڈنڈیری میں کارول کیلی کے قتل کے الزام میں پندرہ سال قید کی سزا کاٹ رہا تھا، جو بدھ کے روز تک بھی قانون کی گرفت سے باہر اور مفرور ہے۔ اس واقعے کے بعد عوامی حلقوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اتنے سنگین جرم کے مرتکب شخص کو رہائی کی اجازت کیوں دی گئی۔ متعلقہ حکام اور جج نے اس فیصلے کے پس منظر میں وضاحت پیش کی ہے کہ ہمدردانہ بنیادوں پر دی جانے والی چھٹی کے کیا اصول و ضوابط تھے اور کن حالات کے تحت یہ قدم اٹھایا گیا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق اس نوعیت کے فیصلے بعض مخصوص ذاتی یا خاندانی حالات کی روشنی میں کیے جاتے ہیں، تاہم مجرم کی جانب سے وقت پر واپس نہ پہنچنے کی شرط کی خلاف ورزی نے اس پورے نظام کو تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔ پولیس اور جیل انتظامیہ کی جانب سے مفرور قیدی کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی کو بھی اس کے بارے میں کوئی اطلاع ملے تو فوراً قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلع کیا جائے۔ اس واقعے کے بعد قیدیوں کی عارضی رہائی اور پیرول کی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کو روکا جا سکے اور عدالتی فیصلوں پرعوامی اعتماد کو بحال رکھا جا سکے۔