LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی فੌجی خودکشی کیس: کرنل الزامات سے بری

News Image
برطانیہ میں 19 سالہ فੌجی اہلکار جیزلی بیک کی خودکشی کے معاملے میں تفتیش کے بعد متعلقہ کرنل کو الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ ولشائر کے لارکھِل کیمپ میں پیش آیا تھا جہاں اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
برطانیہ میں ایک انتہائی دردناک اور حساس معاملے میں فیصلہ سامنے آیا ہے جہاں انیس سالہ فੌجی اہلکار جیزلی بیک کی خودکشی کے کیس سے جڑے ایک کرنل کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ جیزلی بیک نے ولشائر کے لارکھِل کیمپ میں اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا، اور اس المناک اقدام سے قبل مبینہ طور پر انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جس نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی تھی۔ اس واقعے کے بعد فੌجی نظام اور ادارے کے اندر خواتین کے تحفظ اور انصاف کے تقاضوں پر شدید سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ دیکھا جا رہا تھا کہ آیا اعلیٰ افسران نے اس پورے معاملے کو مناسب انداز میں ہینڈل کیا تھا یا نہیں، اور کیا بروقت کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ اہلکار کو تحفظ فراہم کیا جا سکتا تھا یا نہیں۔ اس دوران متعدد اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے اور فوج کے اندر اس طرح کے گھناؤنے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ طویل تفتیش اور کارروائی کے بعد، متعلقہ حکام نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ اس معاملے میں نامزد کرنل پر عائد الزامات ثابت نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں انہیں اس کیس میں بری کر دیا گیا ہے۔ تاہم، اس فیصلے کے بعد بھی مقتولہ کے لواحقین اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے انصاف کے حصول کے لیے آوازیں بلند کی جا رہی ہیں، اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ فوج میں خواتین اہلکاروں کے حقوق اور سلامتی کے لیے مزید سخت اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے دل دہلا دینے والے واقعات سے بچا جا سکے۔