World
ایران احتجاجی تحریک زن زندگی آزادی چار سال ایمنسٹی انٹرنیشنل
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی حکام نے 2022-23 کے دوران ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس تحریک کے چار سال مکمل ہونے پر عوام ایک بار پھر ماضی کے زخموں اور بنیادی حقوق کی جدوجہد پر غور کر رہے ہیں۔
ایران میں سنہ 2022 اور 2023 کے دوران رونما ہونے والی تاریخی اور ملک گیر احتجاجی تحریک، جسے 'زن، زندگی، آزادی' کا نام دیا گیا تھا، کے چار سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اس سنگ میل پر دنیا بھر میں ایرانی عوام اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس تحریک کے گہرے اثرات اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے سانحات پر غور کر رہی ہیں۔ اس دوران بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بار پھر زور دے کر کہا ہے کہ ایرانی حکام نے ان مظاہروں کو کچلنے کے لیے طاقت کا انتہائی بے دریغ استعمال کیا اور اس دوران ایسے اقدامات کیے گئے جو انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
یاد رہے کہ مہسا امینی کی حراست میں وفات کے بعد ایران کے طول و عرض میں حکومت مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے تھے جن میں خواتین نے پیش پیش ہو کر اپنے بنیادی حقوق، آزادی اور صنفی مساوات کے لیے آواز بلند کی تھی۔ اس عوامی تحریک کو دنیا بھر سے بھرپور پذیرائی ملی اور یہ ایران کی جدید تاریخ کا ایک اہم ترین موڑ ثابت ہوئی۔ تاہم، ریاستی مشینری کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے سخت ترین استعمال کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا، ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا اور متعدد کو سزائیں سنائی گئیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ ترین رپورٹس میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کیے جانے والے کریک ڈاؤن کے شواہد واضح ہیں اور متاثرین کے لیے انصاف کا حصول تاحال ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ تنظیم کے مطابق، حکام نے پرامن مظاہرین کو دبانے کے لیے اندھا دھند فائرنگ، من مانی گرفتاریاں اور تشدد کا راستہ اپنایا، جو کہ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
چار سال کا یہ عرصہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ایرانی معاشرے میں جو شعور بیدار ہوا ہے اور خواتین نے جس پامردی کا مظاہرہ کیا ہے، اسے محض طاقت کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ ملک کے اندر اور باہر موجود ایرانی شہری آج بھی ان اقدار اور حقوق کے حصول کے لیے پرعزم ہیں جن کی خاطر اس تحریک کے دوران بے شمار جانیں قربان کی گئیں۔ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے ادارے ایک بار پھر مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایران میں ہونے والی زیادتیوں کی شفاف بین الاقوامی تحقیقات کروائی جائیں اور ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے۔