LIVE
Loading Breaking News...

مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں ترقی اور ناکامی کی اصل وجوہات

News Image
مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں ممالک کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار جغرافیہ یا قدرتی وسائل پر نہیں بلکہ ان کے حکومتی اداروں پر ہے۔ یہ ادارے طاقت، قانونی جواز اور عام شہریوں کے لیے مواقع کی تشکیل کرتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے خطے میں کئی ممالک وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود پسماندہ ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو کم وسائل کے باوجود بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ اس صورتحال پر ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی اور خوشحالی کا انحصار محض اس کے جغرافیائی محل وقوع یا تیل و معدنیات جیسے قدرتی وسائل پر نہیں ہوتا۔ اصل حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے جو کہ ملکی اداروں کی ساخت اور ان کی کارکردگی سے جڑی ہوئی ہے۔ تحقیقات کے مطابق، وہ ادارے جو طاقت کے توازن، حکومت کی قانونی حیثیت اور معاشرے میں تمام افراد کے لیے یکساں مواقع پیدا کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں، دراصل کسی ملک کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ جن ممالک میں مضبوط اور شفاف نظام موجود ہوتا ہے، وہاں عوام کو ترقی کرنے کے یکساں مواقع ملتے ہیں اور ریاست مستحکم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، کمزور اداروں والے ممالک میں کرپشن، ناانصافی اور اقربا پروری پروان چڑھتی ہے جس سے معاشرہ زوال پذیر ہوجاتا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پائیدار ترقی کے لیے حکمرانی کے نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ جب تک ریاستیں اپنے اندرونی ڈھانچے کو بہتر نہیں سکتیں اور عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی نہیں بناتی ہیں، اس وقت تک محض قدرتی وسائل کی موجودگی کسی ملک کو طویل مدتی خوشحالی نہیں دے سکتی۔ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے مستقبل کا انحصار بھی اسی بات پر ہے کہ وہ کتنی جلدی اپنے اداروں کو جدید اور عوام دوست بناتے ہیں۔