LIVE
Loading Breaking News...

ناروے کا دولت مند فنڈ اسرائیل کی ہولڈنگز سے منافع کما رہا ہے

News Image
ناروے کا عالمی شہرت یافتہ خودمختار دولت مند فنڈ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں سے جڑی کمپنیوں سے زبردست منافع کما رہا ہے۔ غزہ میں جاری تباہی کے باوجود اس فنڈ نے اسرائیلی سرمایہ کاری سے بھرپور مالیاتی فوائد حاصل کیے ہیں۔
ناروے کا خودمختار دولت مند فنڈ، جسے دنیا کا سب سے بڑا تیل فنڈ بھی کہا جاتا ہے، اس وقت عالمی تنقید کی زد میں آ گیا ہے جب یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ اسرائیل کی فوجی سرگرمیوں سے جڑی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے ذریعے خطیر منافع کما رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب غزہ میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے اور پورے خطے میں تباہی کے مناظر عام ہیں، اس فنڈ کی مالیاتی کارکردگی میں غیر معمولی بہتری دیکھی گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے درمیان اس قسم کے منافع کا حصول اخلاقی اور ضابطہ کاری کے کئی بڑے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ناروے کا یہ فنڈ عام طور پر پائیدار اور ذمہ دارانہ سرمایہ کاری کے اصولوں پر کاربند رہنے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن موجودہ حالات نے اس کے دہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ دوسری جانب، اس فنڈ کے تحت چلنے والے سرمایہ کاری کے امور پر نظر رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فنڈ عالمی سطح پر پھیلے ہوئے پورٹ فولیو کا حصہ ہے جو مارکیٹ کے روایتی اصولوں کے تحت کام کرتا ہے۔ تاہم، فنڈ کے اندر اور باہر سے مختلف سول سوسائٹی کے ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ اسرائیل اور اس کی فوجی صنعت سے منسلک تمام کمپنیوں سے فوری طور پر سرمایہ واپس نکالا جائے۔ ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ غزہ میں جاری نسل کشی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی مالی پشت پناہی کرنے والی کسی بھی تجارتی سرگرمی کا حصہ بننا ناروے کے اپنے طے کردہ اخلاقی معیارات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس صورتحال نے ناروے کی حکومت اور فنڈ کے انتظامی بورڈ پر دباؤ میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ عام شہریوں اور مختلف سیاسی دھڑوں کی طرف سے بھی اب یہ مطالبات کیے جا رہے ہیں کہ فنڈ کے ضوابط کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ایسے تنازع یا جنگی جرائم سے جڑی کمپنیوں میں سرکاری سرمایہ کاری کو روکا جا سکے۔ اگرچہ فنڈ کے ذمہ داران اس معاملے پر قانونی اور مالیاتی پیچیدگیوں کا حوالہ دیتے ہیں، لیکن دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر یہ معاملہ اب محض ایک معاشی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک بڑا اخلاقی اور سیاسی بحران بن چکا ہے جس کا جواب دینا ناروے کی قیادت کے لیے ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔