World
بھارت اور پاکستان کے بحری جہازوں میں تصادم، سفارت کار طلب
شمالی بحیرہ عرب میں پاکستانی اور بھارتی بحریہ کے جنگی جہازوں کے درمیان تصادم کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو طلب کر لیا گیا ہے۔
شمالی بحیرہ عرب میں پاک بحریہ اور بھارتی بحریہ کے جنگی جہازوں کے درمیان ایک تصادم کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد دونوں پڑوسی ممالک نے اپنے اپنے دارالحکومتوں میں ایک دوسرے کے اعلیٰ سفارت کاروں کو طلب کر لیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ واقعہ شمال بحیرہ عرب کے بین الاقوامی اور اہم آبی گزرگاہوں میں پیش آیا، جہاں دونوں ممالک کے بحری جنگی جہاز گشت پر مامور تھے۔ تصادم کے نتیجے میں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر غیر پیشہ ورانہ اور جارحانہ رویے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی کارویٹ 'پی این ایس حنین' مبینہ طور پر بھارتی جہاز کے قریب آگئی تھی جس سے معمولی رگڑ لگی، جب کہ پاکستان کی جانب سے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس ناخوشگوار واقعے کے فوراً بعد پاکستان اور بھارت دونوں کی وزارتِ خارجہ نے فوری طور پر سخت سفارتی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ملک کے سفارتی نمائندوں کو طلب کیا اور باضابطہ احتجاجی نوٹ حوالے کیے۔ دونوں اطراف سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کھلے سمندر میں اس طرح کے واقعات دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ فی الحال، دونوں ممالک کے عسکری اور سفارتی حکام اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ تصادم کے اس واقعے کے پیچھے حقیقی تکنیکی یا انتظامی وجوہات کیا تھیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بحری حادثات انتہائی حساس نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور فریقین کو سمندری حدود میں باہمی پروٹوکول پر سختی سے عمل کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے تنازع سے بچا جا سکے۔