Pakistan
صدر زرداری کا پمز نرس رضیہ نورین کے لیے تمغہ شجاعت کی منظوری کا اعلان
صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرس رضیہ نورین کے لیے تمغہ شجاعت کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے یہ اعزاز پمز اسپتال میں ایک خطرناک اور ہولناک آتشزدگی کے دوران اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک نومولود بچے کی جان بچانے پر حاصل کیا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال اسلام آباد کی بہادر نرس رضیہ نورین کے لیے ملک کے ایک اہم ترین عسکری اور سول اعزاز 'تمغہ شجاعت' کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ نرس رضیہ نورین نے یہ اعزاز اسپتال میں پیش آنے والے ایک خطرناک اور جان لیوا آتشزدگی کے واقعے کے دوران اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ایک معصوم نومولود بچے کی زندگی بچانے کے اعتراف میں حاصل کیا ہے۔ ان کی اس جرات مندانہ اور بہادری پر مبنی کارروائی کو ملک بھر میں بے حد سراہا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق آتشزدگی کا یہ ناگہانی واقعہ پمز اسپتال کے اس وارڈ میں پیش آیا جہاں انتہائی نگداشت کے حامل نومولود بچے زیر علاج تھے۔ شعلے تیزی سے پھیل رہے تھے اور ہر طرف افرا تفری کا عالم تھا، لیکن نرس رضیہ نورین نے کمال ہمت اور پیشہ ورانہ فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف خود کو محفوظ رکھنے کے بجائے بچوں کو نکالنے کو ترجیح دی بلکہ ایک نومولود کو بحفاظت آگ کے حصار سے باہر نکال کر اس کی زندگی بچا لی۔ ان کے اس اقدام سے ایک بڑا انسانی المیہ رونما ہونے سے بچ گیا۔
صدر مملکت نے اس اعلیٰ ظرفی اور فرض شناسی کا اعتراف کرتے ہوئے تمغہ شجاعت کی سمری کی منظوری دی۔ اس فیصلے کا مقصد نہ صرف رضیہ نورین کی ذاتی جرات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے بلکہ طبی شعبے سے وابستہ ان تمام پروفیشنلز کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو مشکل ترین حالات میں بھی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے اپنی جانوں کی بازی لگا دیتے ہیں۔ سماجی حلقوں اور سول سوسائٹی نے بھی صدر مملکت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
حکومت پاکستان اور محکمہ صحت کے حکام کی جانب سے بھی نرس رضیہ نورین کی خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہا گیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس قومی اعزاز کے اعلان سے طبی عملے میں ایک نیا جذبہ پیدا ہوگا اور وہ مستقبل میں بھی جذبے اور جانفشانی سے اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ رضیہ نورین کا یہ کارنامہ پوری قوم بالخصوص محکمہ صحت کے لیے فخر کی علامت بن چکا ہے۔