LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا یمن میں سعودی عرب کی حمایت سے گریز، حوثی رہنماؤں سے ملاقات

News Image
امریکہ نے عمان میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد یمن کے تنازع میں سعودی عرب کی کھلی حمایت سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں سکیورٹی اور سفارتی محاذ پر نئی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکہ نے عمان میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی رہنماؤں کے ساتھ اہم ملاقاتیں کی ہیں، جن کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ واشنگٹن نے یمن کے تنازع کے حوالے سے سعودی عرب کی بھرپور عسکری یا سفارتی حمایت سے فی الحال گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ قدم خطے میں امن قائم کرنے اور طویل المدتی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی نئی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے، تاہم اس سے ریاض کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دوسری جانب اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے حوثی تحریک سے متعلق حساس انٹیلی جنس معلومات سعودی عرب کے ساتھ شیئر کی ہیں تاکہ خطے میں مشترکہ دفاعی چیلنجز سے نمٹا جا سکے اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ تمام سفارتی اور انٹیلی جنس تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب سعودی عرب نے اپنی سلامتی اور تیل کی تجارت کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف ممالک بشمول پاکستان اور ترکی کے ساتھ دفاعی معاہدے بھی کیے ہیں، اس کے باوجود ریاض اپنے بنیادی دفاعی اور علاقائی چیلنجز کے حل کے لیے بین الاقوامی اور خاص طور پر امریکی ردعمل پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ خطے کے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یمن کی جنگ کے اس نازک موڑ پر امریکہ اور حوثی رہنماؤں کے درمیان براہ راست رابطے خطے کی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، جس سے نہ صرف یمن کے بحران کے حل پر اثر پڑے گا بلکہ خلیجی ممالک کے ساتھ امریکہ کے روایتی سکیورٹی اتحاد کی نوعیت بھی بدل سکتی ہے۔ اس تمام صورتحال میں سعودی عرب کی قیادت اپنے تیل کے تجارتی راستوں اور علاقائی خودمختاری کو محفوظ بنانے کے لیے سفارتی سطح پر نئے اتحادی تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بھی مسلسل مضبوط کر رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے