AI
مصنوعی ذہانت پر عدم اعتماد: اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے رہنماؤں پر سوالات
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ترقی اور اس کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے قانونی حلقوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ وکلاء اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسے اداروں کے رہنماؤں کے بیانات پر مکمل اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اس کے ممکنہ خطرات نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں قانونی ماہرین کی جانب سے یہ سخت مؤقف سامنے آیا ہے کہ اوپن اے آئی (OpenAI) اور اینتھروپک (Anthropic) جیسے بڑے اداروں کے رہنماؤں کے بیانات اور دعووں پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی کے انسانیت کے لیے ممکنہ خطرات اور 'اے آئی ڈوم' کے موضوع پر حکومتیں اور ماہرین شدید تشویش کا شکار ہیں۔ اینتھروپک کے شریک بانی نے پہلے ہی اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کو قابو میں رکھنے کے لیے لازمی طور پر ایک 'کل سوئچ' (kill switch) کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس طرح کے بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ خود ٹیکنالوجی تخلیق کرنے والے ادارے بھی اس کی تباہ کن صلاحیتوں سے مکمل طور پر غافل نہیں ہیں، بلکہ وہ بھی اس کے طویل المدتی اثرات سے خوفزدہ ہیں۔ دوسری جانب، دنیا بھر کی حکومتیں اور ریگولیٹرز اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا ان طاقتور سسٹمز کو لگام دینے کے لیے کوئی عالمی قانون سازی کی جانی چاہیے یا نہیں۔ دنیا کے معروف اخبارات اور نشریاتی اداروں بشمول برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور دی گارڈین نے بھی ان خدشات کو اجاگر کیا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت واقعی انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے تیز رفتار پھیلاؤ اور اس کے غلط استعمال کے خدشات کے پیش نظر، محض کمپنیوں کے سربراہان کے وعدوں پر انحصار کرنے کے بجائے بین الاقوامی سطح پر سخت قوانین اور ضابطہ اخلاق کی فوری ضرورت ہے تاکہ انسانی معاشرے کو کسی بھی بڑے حادثے سے بچایا جا سکے اور ٹیکنالوجی کا استعمال انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے یقینی بنایا جا سکے۔