LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت: امریکہ اور چین کا ٹیکنالوجی مقابلہ اور ٹرمپ کے محدود اختیارات

News Image
ماہرین کے مطابق نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس چین کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے زیادہ مؤثر اور اچھے اختیارات موجود نہیں ہیں۔ اس ضمن میں مختلف عالمی رہنماؤں اور تکنیکی ماہرین نے باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکہ اور چین کے مابین مقابلہ روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اس رفتار کو کیسے سست کریں جس کے ذریعے چین تیزی سے ایک بڑی مصنوعی ذہانت کی سپر پاور بنتا جا رہا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس اس ہدف کے حصول کے لیے نہایت محدود اور کٹھن اختیارات موجود ہیں۔ موجودہ عالمی حالات میں ٹیکنالوجی کی فراہمی اور اس کی تیاری کے عمل کو یکطرفہ طور پر روکنا اب اتنا آسان نہیں رہا۔دوسری جانب کاروباری دنیا اور تکنیکی ماہرین کی رائے اس حوالے سے مختلف سمتوں میں بٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس کے مطابق بڑی کارپوریشنز کے سربراہان مصنوعی ذہانت کے لاحق ہونے والے مبینہ خطرات اور اس کے غلط استعمال کے حوالے سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔ دوسری طرف ایلون مسک جیسے سرکردہ صنعت کاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ اور چین کی مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی لیبارٹریز کو مقابلے کے بجائے باہمی تعاون کی راہ اپنانی چاہیے تاکہ ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے دنیا کو محفوظ رکھا جا سکے۔اس تمام بحث کے درمیان سیم ألٹ مین جیسے اہم رہنماؤں نے یہاں تک تجویز دی ہے کہ اگر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور ضابطہ بندی کے حوالے سے کوئی تاریخی معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو یہ دنیا کے امن کے لیے اتنا بڑا کارنامہ ہوگا کہ انہیں اس پر نوبل امن انعام کا حقدار سمجھا جانا چاہیے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس شعبے میں صرف سختی یا پابندیاں عائد کرنے کی بجائے سفارتی اور باہمی تعاون کے راستے تلاش کرنا اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں عالمی رہنماؤں کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔