Business
امریکی فیڈرل ریزرو کا شرح سود بڑھانے کا فیصلہ، معاشی اثرات
امریکہ کا مرکزی بینک فیڈرل ریزرو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافے کا اعلان کرنے والا ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس متوقع فیصلے کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں اور ڈاو جونز انڈیکس میں بھی گراؤنڈ ریکارڈ کی گئی ہے۔
امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جو کہ طویل عرصے کے بعد اس نوعیت کا پہلا بڑا اقدام ہوگا۔ معاشی ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بانڈز کی پیداوار میں اضافے کے دباؤ کے باعث فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (FOMC) کے اس اجلاس میں سخت مالیاتی فیصلے متوقع ہیں۔ مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ اضافے نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے اور اب امریکہ میں بھی اس کے سدباب کے لیے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق فیڈرل ریزرو کے اس متوقع فیصلے کے براہ راست اثرات امریکی اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں پر پڑ رہے ہیں۔ اعلان سے قبل ہی وال اسٹریٹ کے ڈاو جونز انڈیکس میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے جبکہ سرمایہ کار انتہائی محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بار شرح سود میں پچاس بیسس پوائنٹس تک کا اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے جو کہ مارکیٹ کے لیے ایک سخت پیغام ہوگا۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کے اس اقدام کا مقصد معیشت کو مزید غیر مستحکم ہونے سے بچانا اور قیمتوں کے بڑھتے ہوئے گراف کو نیچے لانا ہے۔ تاہم اس سے قرض لینے کے اخراجات بڑھ جائیں گے اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی وقتی طور پر سست روی طاری ہو سکتی ہے۔ فیڈرل ریزرو کے اس اہم ترین اجلاس کی تمام تر تفصیلات پر عالمی سرمایہ کاروں کی گہری نظریں مرکوز ہیں اور آنے والے دنوں میں اس کے طویل مدتی اثرات واضح ہوں گے۔