LIVE
Loading Breaking News...

ایڈ شییرن کا امریکی ٹور بحران کا شکار، معاون فنکار الگ

News Image
میکلمور کو مبینہ طور پر فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے پر ٹور سے نکالنے کے بعد ایڈ شییرن کے امریکی دورے کے تمام معاون فنکاروں نے احتجاجاً اپنے نام واپس لے لیے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد برطانوی گلوکار کو میوزک انڈسٹری کی تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مشہور برطانوی گلوکار ایڈ شییرن کا حالیہ امریکی دورہ سنگین تنازعات اور بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے کیونکہ ٹور کے تمام معاون فنکاروں نے احتجاجاً اپنے نام واپس لے لیے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایڈ شییرن نے مبینہ طور پر ریپر میکلمور کو اپنے ٹور سے باہر کا راستہ دکھایا۔ میکلمور کو مبینہ طور پر فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے اور آزاد فلسطین کے نعرے لگانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا۔ اس فیصلے کے بعد سے بین الاقوامی میوزک انڈسٹری میں ہلچل مچ گئی ہے اور شائقین کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ماہرین اسے ایڈ شییرن کے کیریئر کا سب سے بڑا بحران قرار دے رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، میکلمور کے ٹور سے اخراج کے بعد دیگر معاون موسیقاروں اور پرفارمرز نے بھی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایڈ شییرن کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پیش رفت سے نہ صرف شییرن کے آنے والے کنسرٹس کے شیڈول پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے بلکہ ان کی عوامی شخصیت کو بھی شدید دھکا لگا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہمیشہ 'مسٹر نائس گائے' کے طور پر جانے جانے والے ایڈ شییرن کو اس فیصلے کی وجہ سے گہرے تنظیمی اور پیشہ ورانہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کے طویل المدتی کیریئر پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب، اس تنازعے نے انڈسٹری میں فنکاروں کی آزادیِ اظہار اور سیاسی مقاصد کے لیے آواز اٹھانے کے حق پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ دیگر فنکاروں کی جانب سے ٹور کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ اس بات کا عکاس ہے کہ آرٹسٹ اب سیاسی اور سماجی معاملات پر واضح مؤقف اپنانے کے حامی ہیں۔ اب تک ایڈ شییرن کی انتظامیہ یا خود گلوکار کی طرف سے اس تمام صورتحال پر کوئی حتمی لائحہ عمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن ٹور کے منسوخ ہونے یا مزید تاخیر کا خدشہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔