LIVE
Loading Breaking News...

بیلاروس کا امریکی پابندیوں میں نرمی کے بدلے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ

News Image
بیلاروس نے امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کے بدلے میں پچیس سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کے نتیجے میں مزید قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔
بیلاروس کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ سفارتی اور سیاسی تعلقات میں بہتری کے عمل کے دوران 25 سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ یہ قدم دونوںممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں اور بات چیت کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس رہائی کے بدلے میں امریکہ نے بیلاروس پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیشرفت سے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری سردمہری میں کمی آنے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی ٹرمپ انتظامیہ نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں بیلاروس سے مزید سیاسی قیدیوں کی رہائی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور منسک کے درمیان سفارتی سطح پر مذاکرات جاری ہیں اور تعلقات کو مزید معمول پر لانے کے لیے مثبت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اس پیشرفت کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ بیلاروس میں تمام سیاسی قیدیوں کی غیر مشروط رہائی تک عالمی برادری کو دباؤ جاری رکھنا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے جہاں اقتصادی اور سفارتی مراعات کے بدلے انسانی حقوق کے مسائل پر پیشرفت حاصل کی جا رہی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا دونوں ممالک اس رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے مزید قیدیوں کی رہائی اور دو طرفہ تعلقات کی بہتری کے لیے کس حد تک آگے بڑھتے ہیں۔