LIVE
Loading Breaking News...

غزه میں تباہ شدہ عمارت گرنے سے 21 فلسطینی جاں بحق

News Image
غزه شہر میں جنگ سے تباہ ہونے والی ایک عمارت کے منہدم ہونے سے کم از کم اکیس فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس دلخراش واقعے نے خطے میں غیر محفوظ اور خستہ حال کھنڈرات سے جڑے شدید خطرات کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔
غزه شہر میں ایک المناک واقعے کے دوران جنگ سے متاثرہ اور خستہ حال عمارت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم اکیس فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔ اس ہولناک حادثے نے وہاں کے رہائشیوں میں پائے جانے والے اس خوف کو مزید بڑھا دیا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں کمزور ہونے والی یہ عمارتیں اب انسانی جانوں کے لیے ایک بہت بڑا اور روزمرہ کا خطرہ بن چکی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کے پاس پناہ کے لیے متبادل جگہیں نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے وہ مجبوراََ ایسی ہی تباہ شدہ اور خطرناک عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ حالیہ برسوں اور مہینوں میں جاری شدید بمباری اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے غزه کا انفراسٹرکچر بُری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ ہزاروں عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں ایسی رہائشی اور تجارتی عمارات موجود ہیں جن کا ڈھانچہ شدید نوعیت کے نقصان کا شکار ہو چکا ہے۔ ماہرین اور امدادی اداروں کی جانب سے بارہا خبردار کیا گیا ہے کہ یہ کھنڈرات کسی بھی وقت مزید بڑے سانحات کا سبب بن سکتے ہیں، کیونکہ بنیادی مرمت اور چیک اینڈ بیلنس کا کوئی مؤثر نظام فی الحال وہاں میسر نہیں۔ اس تازه ترین حادثے نے مقامی آبادی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ غزه میں اب کہیں بھی جانا محفوظ نہیں رہا اور محفوظ پناہ گاہوں کا فقدان صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ کمزور اور گرنے کے دہانے پر کھڑی عمارتوں کے قریب جانے سے لوگوں کو روکا جا سکے اور ملبے کو ہٹانے کے لیے ضروری مشینری مہیا کی جا سکے۔ بین الاقوامی برادری اور امدادی ایجنسیوں کے لیے بھی یہ صورتحال ایک لمحہ فکریہ ہے۔ غزه کے باسی ایک طرف جنگ کی تباہ کاریوں اور مسلسل خطرات کا سامنا کر رہے ہیں تو دوسری طرف ان کے اپنے ہی گھر اور محلے ان کے لیے موت کا کنواں بنتے جا رہے ہیں۔ اگر فوری طور پر تعمیر نو اور خستہ حال ڈھانچوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے، تو اس قسم کے حادثات میں مزید قیمتی جانوں کے ضائع ہونے کا خدشہ بدستور برقرار رہے گا۔