World
امریکی کانگریس کا اسرائیل بائیکاٹ کرنے والی یونیورسٹیوں کی فنڈنگ بند کرنے کا بل منظور
امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک ایسا بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی یونیورسٹیوں کی وفاقی امداد روکی جا سکتی ہے۔ اس قانون سازی کا مقصد تعلیمی اداروں میں اسرائیل مخالف سرگرمیوں اور بائیکاٹ کی تحریکوں کو روکنا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک ایسا اہم اور متنازع بل منظور کر لیا ہے جو تعلیمی میدان میں اسرائیل کے بائیکاٹ کی تحریکوں کے خلاف ایک سخت قانونی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ اس نئے بل کے تحت اگر کوئی امریکی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ اسرائیل کے بائیکاٹ، سرمایہ کاری کے خاتمے یا پابندیوں کی مہم میں ملوث پایا جاتا ہے، تو اس کے وفاقی طلبہ گرانٹس اور تعلیمی فنڈز کو منقطع کیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون سازی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی یونیورسٹیوں کے اندر طلبہ اور اساتذہ کی جانب سے فلسطینیوں کے حقوق کے حامی اور اسرائیل مخالف مظاہرے اور کیمپ لگانے کا سلسلہ زور پکڑ چکا ہے۔ بل کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس سے تعلیمی اداروں میں مبینہ یہود دشمنی اور امتیازی سلوک کا سدباب کیا جائے گا، جب کہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قدم اظہارِ رائے کی آزادی کے بنیادی آئینی حق پر براہِ راست ایک کاری ضرب ہے۔ قانون سازی کے اس عمل کے دوران قانون سازوں کے درمیان شدید گرما گرم بحث بھی دیکھنے میں آئی، جہاں حامی اراکین نے اسرائیل کے ساتھ مضبوط سٹریٹجک اتحاد کا حوالہ دیا، جبکہ حزبِ اختلاف کے کچھ اراکین نے اسے احتجاجی آوازوں کو دبانے کی حکومتی کوشش قرار دیا۔ یہ بل اب سینیٹ میں جائے گا جہاں اس پر مزید مباحثہ اور ووٹنگ متوقع ہے، اور اگر یہ وہاں سے بھی منظور ہو کر قانون کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس کے امریکی تعلیمی نظام اور طلبہ کی سیاست پر انتہائی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس قانون کے نفاذ سے یونیورسٹیوں کی انتظامیہ پر دباؤ بڑھ جائے گا کہ وہ کیمپس کے اندر ہونے والی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں بالخصوص مشرق وسطیٰ سے متعلق امور پر سخت کنٹرول رکھیں، جس سے تعلیمی آزادی کے حوالے سے نئے مباحثوں کے جنم لینے کا بھی قوی امکان ہے۔