LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی اثرات پر امریکیوں کی بڑھتی ہوئی تشویش

News Image
ایک نئے سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ نصف سے زائد امریکی مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی وجہ سے بجلی کے بلوں میں اضافے اور پانی کی قلت سے خائف ہیں۔ عوام کا یہ بڑھتا ہوا خدشہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ماحولیاتی چیلنجز میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
واشنگٹن (نیکسریا نیوز اردو) ایک نئے عوامی سروے کے مطابق امریکی عوام میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے تشویش میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نصف سے زائد امریکی شہری اس بات سے سخت خوفزدہ ہیں کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا سینٹرز کی روز افزوں تعداد ملک میں بجلی کے نرخوں میں اضافے اور پانی کے ذخائر پر شدید دباؤ کا باعث بنے گی۔ جدید ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں ماحولیاتی پائیداری ایک اہم سوال بنتی جا رہی ہے۔ جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو تربیت دینے اور چلانے کے لیے انتہائی طاقتور کمپیوٹرز اور سرورز کی ضرورت ہوتی ہے، جو بہت زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان بڑے ڈیٹا سینٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کروڑوں گیلن پانی کی ضرورت پڑتی ہے، جو مقامی آبی وسائل کو شدید دباؤ میں ڈال رہا ہے۔ ماہرین اور مقامی کمیونٹیز کی طرف سے ان مسائل پر آواز اٹھائے جانے کے بعد اب عام امریکی شہریوں میں بھی اس کے منفی اثرات کے بارے میں بیداری اور خوف پیدا ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، عوام کا یہ بڑھتا ہوا اضطراب ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں اور پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ عوام اب یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے ماحولیاتی اثرات کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔ اگر ان مسائل پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو آنے والے وقتوں میں بجلی کی فراہمی اور ماحولیاتی توازن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔