World
پاکستان کا اقوام متحدہ میں مؤقف: حوثی حملے خطے کیلئے خطرناک
پاکستان نے اقوام متحدہ میں خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب پر حوثی حملوں نے خطے کے تنازع کو ایک انتہائی خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد اجتماعی ڈیٹرنس ہے اور اس کے کوئی علاقائی عزائم نہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ حوثی حملوں نے مشرق وسطیٰ کے تنازع کو ایک انتہائی خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور مختلفمقامات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی مندوبین نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لے تاکہ خطے کا امن اور استحکام مزید خراب ہونے سے بچایا جا سکے، کیونکہ اس طرح کے حملے نہ صرف خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بین الاقوامی امن کو بھی داؤ پر لگا رہے ہیں۔دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے کوئی علاقائی عزائم نہیں ہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد اجتماعی ڈیٹرنس اور خطے کے اہم مقامات کا دفاع کرنا ہے۔ عسکری حکام کا ماننا ہے کہ اس قسم کے معاہدے کسی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں بلکہ دفاعی تیاریوں کا حصہ ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے موثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔ خطے میں سکیورٹی خدات کے پیش نظر یہ اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں جارح قوتوں کو روکا جا سکے۔یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے تین مختلف شہروں پر ہونے والے حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں تیرہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جن کی وجہ سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ ان حملوں کے جواب میں سعودی عرب کی جانب سے یمن میں اہداف پر بمباری کا سلسلہ بھی تیز کر دیا گیا ہے، جبکہ حوثی باغیوں نے یمن میں اپنی پوزیشنیں مزید مستحکم کر لی ہیں۔ اس کے علاوہ حوثی ترجمانوں نے ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے، تاہم اس بات کی تصدیق ابھی تک سعودی حکام کی جانب سے نہیں کی گئی ہے۔ عالمی سطح پر مبصرین اس تمام صورتحال کو مشرق وسطیٰ میں ایک نئے اور خطرناک تنازع کی شروعات قرار دے رہے ہیں۔