LIVE
Loading Breaking News...

مکہ دفاعی معاہدہ اجتماعی دفاع کے لیے ہے: پاکستان

News Image
پاک فوج کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ صرف اجتماعی ڈیٹرنس کے لیے ہے اور اس کے کوئی علاقائی یا جارحانہ عزائم نہیں ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد مسلم دنیا کو ایک مضبوط پیغام دینا اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
پاک فوج کے ترجمان اور اعلیٰ عسکری حکام نے واضح کیا ہے کہ حالیہ مکہ دفاعی معاہدے کا بنیادی مقصد کسی بھی قسم کی جارحیت کے خلاف 'اجتماعی ڈیٹرنس' قائم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اس معاہدے کے پس منظر میں کوئی بھی علاقائی یا توسیع پسندانہ عزائم شامل نہیں ہیں، بلکہ یہ خطے کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھایا گیا ایک انتہائی اہم اور دفاعی قدم ہے۔ اس معاہدے نے عالمی سطح پر خاص طور پر اسلامی دنیا میں ایک طاقتور اور واضح پیغام دیا ہے۔ ترکی کے صدر نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے امتِ مسلمہ کے اتحاد اور دفاعی صلاحیتوں کو جلا ملے گی۔ پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ یہ اتحاد کسی بھی دوسرے ملک خاص طور پر ایران کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس کا دائرہ کار ضرورت پڑنے پر مزید وسعت اختیار کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے مختلف مبصرین اور میڈیا رپورٹس میں یہ بات بھی زیرِ بحث رہی ہے کہ بنگلہ دیش جیسے ممالک کے لیے اس میں شمولیت سے پہلے کے تقاضے کیا ہونے چاہئیں، تاہم پاکستان کی عسکری قیادت نے بارہا اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ یہ تمام تر کاوشیں خطے میں پائیدار امن اور دفاعی خود کفالت کے حصول کے لیے ہیں۔ حوثی حملوں کے بعد سامنے آنے والی صورتحال میں پاکستان نے بروقت وضاحت کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ معاہدے کی نوعیت مکمل طور پر دفاعی ہے اور اس کا مقصد کسی بھی جارحانہ کارروائی کا حصہ بننا ہرگز نہیں ہے۔ اس سے خطے کے دیگر ممالک میں بھی یہ یقین دہانی پہنچی ہے کہ اس نوعیت کے دفاعی معاہدے محض باہمی تعاون اور سلامتی کے فروغ کے لیے ہی ترتیب دیے گئے ہیں۔