LIVE
Loading Breaking News...

گوگل ڈیپ مائنڈ کے محققین کی جانب سے اے آئی کے خطرات پر انتباہ

News Image
گوگل ڈیپ مائنڈ کے سابق محققین نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی ترقی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بے قابو اے آئی مستقبل میں انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی دنیا میں اس وقت شدید ہلچل مچ گئی ہے جب گوگل ڈیپ مائنڈ سے وابستہ دو محققین نے اے آئی کے ممکنہ خطرناک مستقبل کے حوالے سے آواز اٹھائی ہے۔ ان محققین کا کہنا ہے کہ جدید ترین مصنوعی ذہانت کے سسٹمز جس تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، وہ آنے والے وقتوں میں انسانی تہذیب کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا ٹیکنالوجی کی یہ دوڑ انسانیت کو تباہی کی طرف تو نہیں لے جا رہی۔ سی این این اور دی گارڈین جیسے عالمی میڈیا اداروں کی رپورٹس کے مطابق، کئی اے آئی انجینئرز اب اس بات کا اعتراف کرنے لگے ہیں کہ وہ اپنی ہی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی سے خوفزدہ ہیں۔ ان ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی کے ماڈلز اتنے طاقتور ہوتے جا رہے ہیں کہ انہیں کنٹرول کرنا انسانوں کے بس سے باہر ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی سائنسدان اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ اگر مصنوعی ذہانت کی ترقی کو مناسب ضابطوں کے تحت نہ روکا گیا تو یہ دنیا کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب تک ان کے پاس کچھ اختیار اور رسائی موجود ہے، وہ اس حوالے سے کھل کر بات کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ فرنٹیر اے آئی کی ترقی کی رفتار کو سست کیا جائے اور اس کے حفاظتی پہلوؤں پر زیادہ توجہ دی جائے۔ حالیہ بیانات نے ٹیکنالوجی انڈسٹری میں ایک نئی بحث چھڑ دی ہے کہ کیا انسان اپنے ہی ہاتھوں ایک ایسی قوت کو جنم دے رہا ہے جو مستقبل میں اس کا سب سے بڑا دشمن ثابت ہوگی۔