Business
امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں 7.1 ملین بیرل کا اضافہ، تیل کی قیمتوں میں کمی
امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں سات ملین سے زائد بیرل کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ دیکھا گیا اور فیوچر کانٹریکٹس میں کمی واقع ہوئی۔
امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (API) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تیل کے ذخائر میں ستر لاکھ ایک ہزار (7.1 ملین) بیرل کا اضافہ ہوا ہے، جس نے توانائی کی بین الاقوامی منڈی کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے۔ اس اچانک اضافے کے بعد تجارتی حلقوں میں تیل کی مانگ اور رسد کے توازن کے حوالے سے نئے مباحثے شروع ہو گئے ہیں۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد تیل کے فیوچر کانٹریکٹس میں کمی دیکھی گئی اور قیمتیں پچھلے چار ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آ گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ذخائر میں اس اضافے سے مارکیٹ کے بنیادی رجحانات پر گہرا اثر پڑا ہے، کیونکہ سرمایہ کار پہلے ہی ایندھن کی طلب اور رسد کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کی رسد اور عالمی منڈی کے دیگر عوامل بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے تیل کی اضافی فراہمی کی خبروں نے بھی مارکیٹ کے روخ کو متاثر کیا ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمتیں تاحال ریکارڈ سطح کے قریب ہیں۔ تجارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ امریکی تیل کے ذخائر میں اضافے اور مشرق وسطیٰ میں رسد کے معمولی جھٹکوں نے قیمتوں کو وقتی طور پر نیچے دھکیلا ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر توانائی کی مجموعی طلب اور جغرافیائی سیاسی صورتحال آنے والے دنوں میں تیل کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔