LIVE
Loading Breaking News...

لیون بلیک توہینِ عدالت، امریکی ایوان کی منظوری

News Image
امریکی ایوانِ نمائندگان نے جیفری ایپسٹین کے ساتھی لیون بلیک کو توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دینے کے حق میں ووٹ دے دیا ہے۔ لیون بلیک نے ایپسٹین اسکینڈل سے متعلق دستاویزات فراہم کرنے اور کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا۔
واشنگٹن (نیکسورا نیوز اردو) امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک اہم فیصلے میں ارب پتی کاروباری شخصیت اور متنازع مالیاتی شخص جیفری ایپسٹین کے سابق ساتھی لیون بلیک کو توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دینے کے لیے ووٹنگ مکمل کر لی ہے۔ یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب لیون بلیک نے قانون سازوں کے سامنے پیش ہونے اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ ان کے کاروباری تعلقات سے متعلق مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے سے صریحاً انکار کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، کانگریس کی جانب سے بلیک کو باقاعدہ سمن جاری کیے گئے تھے تاکہ وہ ایپسٹین کے مالیاتی نیٹ ورک اور ان کے باہمی روابط پر روشنی ڈال سکیں۔ تاہم، لیون بلیک اور ان کے قانونی مشیروں نے ان احکامات کی تعمیل کرنے سے گریز کیا، جس پر ایوان میں سخت غم و غصہ پایا گیا۔ اراکین کا کہنا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے اور تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونا سنگین توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ جیفری ایپسٹین کا معاملہ امریکی تاریخ کے سب سے بڑے اسکینڈلز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جس میں دنیا بھر کی کئی نامور شخصیات، سیاستدان اور کاروباری افراد کے نام سامنے آئے تھے۔ لیون بلیک کے ساتھ ایپسٹین کے کاروباری تعلقات طویل عرصے سے زیرِ بحث رہے ہیں، اور تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دونوں کے درمیان مالی معاملات کی نوعیت کیا تھی۔ اس تازه پیشرفت کے بعد اب یہ معاملہ مزید قانونی کارروائی کے لیے محکمہ انصاف کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے، جہاں لیون بلیک کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے ایوانِ نمائندگان کی جانب سے طاقتور شخصیات کے احتساب کے عزم کا اظہار ہوتا ہے، اور ایپسٹین کے نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔