LIVE
Loading Breaking News...

یورپی یونین کی اوپن اے آئی سے مصنوعی ذہانت کے خطرات پر بات چیت

News Image
یورپی کمیشن نے حالیہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز سے متعلق ہیکنگ کے واقعات کے پیش نظر اوپن اے آئی اور اینتھروپک سے بات چیت شروع کر دی ہے۔ حکام نے ان سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سخت مانیٹرنگ اور نئے قوانین کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
برسلز: یورپی کمیشن نے مصنوعی ذہانت کے بڑے اداروں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے ساتھ باضابطہ بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ قدم حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے ان واقعات کے بعد اٹھایا گیا ہے جن میں جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو ہیکنگ کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے یا ان سسٹمز میں سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ کمیشن کے حکام کے مطابق اس طرح کے واقعات دنیا بھر میں ڈیجیٹل سکیورٹی کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر ابھر رہے ہیں، جن کا فوری تدارک ضروری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بات چیت یورپی یونین کے اس تاریخی فریم ورک کا حصہ ہے جس کے تحت ہائی رسک مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی سخت نگرانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ یورپی یونین دنیا بھر میں ایسے قوانین نافذ کرنے میں پیش پیش ہے جو جدید ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے سسٹمز کے اندرونی حفاظتی اقدامات کو مزید موثر بنانے کا پابند بناتے ہیں۔ حالیہ ہیکنگ کے واقعات نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ جدید ترین اے آئی ماڈلز کو محفوظ بنانا کیوں ناگزیر ہے۔ اوپن اے آئی اور دیگر معروف اے آئی فرمز کو اب یورپی یونین کے سخت قواعد و ضوابط کا سامنا ہے، جن کے تحت انہیں اپنے سسٹمز میں موجود کمزوریوں کی بروقت اطلاع دینا ہوگی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اور ریگولیٹرز مل کر ہی اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال انسانیت کے لیے مفید ثابت ہو اور اس کا غلط استعمال نہ کیا جا سکے۔ یورپی کمیشن کی جانب سے اس معاملے پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید اقدامات متوقع ہیں۔