LIVE
Loading Breaking News...

شامی مہاجرین کی کچرے کے ڈھیروں سے روزگار کی تلاش

News Image
شام میں جاری بحران کے باعث بے گھر ہونے والے افراد انتہائی خطرناک حالات میں روزگار کی تلاش کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کے لیے جلتے ہوئے کوڑے کے ڈھیروں سے ری سائیکل ہونے والا مواد تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔
شام میں برسوں سے جاری تنازعات اور اقتصادی بحران کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جن کے پاس روزگار کا کوئی اور ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے اب انتہائی کٹھن اور خطرناک راستے اختیار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔ ملک کے مختلف علاقوں میں بے گھر ہونے والے شامی شہری اب مجبوری کے عالم میں پہاڑ جیسے بلند اور جلتے ہوئے کوڑے کے ڈھیروں میں گھنٹوں گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ لوگ اس امید پر کچرا کھنگالتے ہیں کہ انہیں وہاں سے کوئی ایسی قابلِ استعمال یا ری سائیکل ہونے والی شے مل جائے جسے فروخت کر کے وہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر سکیں۔ روزگار کے روایتی ذرائع ختم ہو جانے اور مہنگائی کی آسمان چھوتی لہر کے باعث ان خاندانوں کے لیے بنیادی ضروریاتِ زندگی کا حصول بھی خواب بن چکا ہے۔ کچرے کے ان ڈھیروں پر کام کرنا نہ صرف انتہائی تھکا دینے والا عمل ہے بلکہ یہ انسانی صحت کے لیے بھی شدید خطرات کا حامل ہے۔ کوڑے کے جلنے سے اٹھنے والا زہریلا دھواں، غلاظت اور خطرناک کیمیکلز ان بے گھر افراد کے پھیپھڑوں اور مجموعی صحت کو تباہ کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود، غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے یہ شامی شہری روزانہ اس دھوئیں اور بدبو میں اترتے ہیں تاکہ کچھ سکے کما سکیں۔ بچوں سے لے کر بوڑھوں تک، ہر عمر کے افراد اس کٹھن مزدوری میں جتے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے اس کے علاوہ اور کوئی ذریعہ آمدن باقی نہیں رہا۔ مقامی فلاحی تنظیموں اور عالمی اداروں نے بارہا اس انسانی المیے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم زمینی حالات بدستور سنگین ہیں۔ اس صورتحال نے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں انسانی حقوق اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے دعویداروں پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک شام میں مستقل امن قائم نہیں ہوتا اور متاثرہ آبادی کی بحالی کے لیے جامع بین الاقوامی امدادی پیکیج فراہم نہیں کیے جاتے، اس قسم کے دلخراش مناظر معمول بنے رہیں گے۔ بے گھر شامیوں کی یہ روزمرہ کی جدوجہد اس بات کی غماز ہے کہ جنگ کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں ہوتے بلکہ اس کا اصل عذاب وہ لوگ بھگتتے ہیں جو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور جنہیں پیٹ بھرنے کے لیے انتہائی غیر انسانی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔