World
شام میں بشار الاسد کے دور کی دہشت گرد عدالت کا خاتمہ اور کرد کشیدگی
شام کی نئی قیادت نے سابق صدر بشار الاسد کے دور میں قائم کی جانے والی متنازع دہشت گردی کی عدالت کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ملک کو چودہ سالہ طویل تنازعے کے بعد متحد کرنے کے حکومتی عزم کو اس وقت شدید چیلنجز کا سامنا ہے جب دوسری طرف کرد علاقوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
شام کی نئی عبوری انتظامیہ نے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے اور سابقہ حکومت کے سیاہ کارناموں کو مٹانے کی جانب ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے بشار الاسد کے دور میں قائم کردہ متنازع ’دہشت گردی‘ کی عدالت کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے۔ اس عدالت کو سابقہ حکومت کے دوران سیاسی مخالفین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں کو دبانے کے لیے ایک ہتیار کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جس کے فیصلوں پر اندرون و بیرون ملک شدید تنقید کی جاتی تھی۔ اس اقدام کو ملک میں قانون کی حکمرانی بحال کرنے کی طرف ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم، یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر احمد الشارع کی قیادت کو چودہ سالہ تباہ کن جنگ کے بعد پورے ملک کو ایک پرچم تلے متحد کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں اندرونی چیلنجز بدستور موجود ہیں اور حکومتی رٹ قائم کرنے کی کوششوں کو مزاحمت کا سامنا ہے۔ بالخصوص ملک کے شمال مشرقی حصوں میں کرد آبادی اور مرکزی حکومت کے درمیان کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جو نئی حکومت کی امن اور استحکام کی کوششوں کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔
سیاسی اور عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ شام کو ایک مستحکم ریاست بنانے کے لیے حکومت کو نہ صرف سابقہ آمریت کے آثار کو ختم کرنا ہوگا بلکہ تمام نسلی اور لسانی گروہوں، بشمول کردوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ ملک کے اندرونی حالات انتہائی حساس ہیں اور کسی بھی غلط فیصلے سے صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ عبوری حکومت پر اندرونی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بین برادریوں کے حقوق کے تحفظ کی بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا شام کی نئی قیادت کرد کشیدگی کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ ملک کی معاشی بحالی اور سیاسی استحکام کا دارمدار اسی بات پر ہے کہ حکومت کس طرح تمام دھڑوں کو اعتماد میں لیتی ہے اور ملک کو مزید انارکی سے بچانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپناتی ہے۔