LIVE
Loading Breaking News...

ریپبلکن سینیٹر کی ٹرمپ کی ویکسین پالیسی پر تنقید اور خسرہ کے اموات

News Image
امریکہ میں خسرہ کی بیماری سے بڑھتی ہوئی اموات کے تناظر میں ایک ریپبلکن سینیٹر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ویکسین پالیسی پر کڑی تنقید کی ہے۔ سینیٹر بل کیسڈی نے سرجن جنرل کے لیے نامزد امیدوار سے ویکسین اور عوامی صحت سے متعلق ان کے خیالات پر سخت سوالات کیے ہیں۔
واشنگٹن: امریکہ میں خسرہ کی بیماری سے اموات میں ہونے والے تشویشناک اضافے کے بعد سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ حال ہی میں ایک نمایاں ریپبلکن سینیٹر نے نو نامزد سرجن جنرل کی پالیسیوں اور خیالات پر سخت اعتراضات اٹھاتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی ویکسین سے متعلق پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سینیٹر بل کیسڈی، جو خود ایک معالج بھی ہیں، نے ملک میں صحت عامہ کے گرتے ہوئے معیارات اور ویکسین کے حوالے سے پھیلنے والی غلط فہمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹر بل کیسڈی نے نامزد سرجن جنرل کے ساتھ ہونے والی ملاقات اور سینیٹ کمیٹی کے اجلاس کے دوران ویکسین اور حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے ان کے ماضی کے بیانات کی کڑی جانچ پڑتال کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت میں جب امریکہ میں خسرہ جیسی جان لیوا بیماریاں دوبارہ سر اٹھا رہی ہیں اور معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں، تو ایسے میں عوامی صحت کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہونے والے شخص کا نظریہ بالکل واضح اور سائنسی حقائق پر مبنی ہونا چاہیے۔ سینیٹر نے زور دیا کہ سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر ویکسین کے حوالے سے درست طبی اصولوں پر کاربند رہنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ امریکہ کے مختلف حصوں میں خسرہ کے مریضوں کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی بڑی وجہ ویکسین کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات اور افواہیں ہیں۔ ماہرینِ صحت کا ماننا ہے کہ بروقت حفاظتی ٹیکے نہ لگنے کی وجہ سے یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے، جو کہ بچوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ سینیٹر کیسڈی نے سیاسی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے پر واضح اور ذمہ دارانہ مؤقف اپنائیں تاکہ مزید قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔ اس صورتحال نے ٹرمپ انتظامیہ کی صحت سے متعلق ترجیحات پر ایک بار پھر بحث کو جنم دے دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے اندر سے اس قسم کی تنقید آنے والے دنوں میں انتظامیہ کے لیے پالیسی سازی کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ عوام اور طبی حلقے اس بات کے منتظر ہیں کہ نامزد سرجن جنرل سینیٹ کے سامنے اپنے ان خیالات کی کس طرح وضاحت کرتے ہیں اور خسرہ کے بحران سے نمٹنے کے لیے ان کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔