LIVE
Loading Breaking News...

لبنان نے مصر کو قیمتی قدیم نوادرات واپس کر دیے

News Image
لبنان نے مصر کے قدیم تہذیب سے تعلق رکھنے والے 37 نوادرات باضابطہ طور پر واپس کر دیے ہیں جو چھ سال قبل غیر قانونی طور پر اسمگل کیے گئے تھے۔ ان نوادرات کا تعلق قدیم مصر کے فرعونی دور سے ہے۔
قاہرہ اور بیروت کے حکام کے مابین تعاون کے نتیجے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے تحت لبنان نے مصر کے 37 قدیم نوادرات واپس کر دیے ہیں۔ یہ تمام نوادرات آج سے چھ سال قبل غیر قانونی طور پر مصر سے باہر اسمگل کیے گئے تھے، جنہیں اب کامیابی کے ساتھ واپس لایا گیا ہے۔ یہ اقدام دونوں برادر ممالک کے درمیان ثقافتی ورثے کے تحفظ اور غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے قریبی تعاون کا مظہر ہے۔ حکام کے مطابق یہ نوادرات تاریخ اور ثقافت کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کی واپسی مصر کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ واپس کیے گئے ان تمام قیمتی اور تاریخی نوادرات کا تعلق مصر کی قدیم ترین اور معروف فرعونی تہذیب سے ہے، جسے عام طور پر قدیم مصر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ نوادرات ہزاروں سال پرانے ہیں اور قدیم مصری ثقافت، فن اور تمدن کی عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق اس نوعیت کے نوادرات نہ صرف کسی ایک ملک بلکہ پوری انسانیت کا قیمتی ورثہ ہوتے ہیں، جن کی حفاظت اور اصل مقام پر واپسی بین الاقوامی قوانین کے تحت بھی انتہائی ضروری ہے۔ غیر قانونی اسمگلنگ کے ذریعے ان تاریخی اشیاء کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنے والے گروہوں کے خلاف دنیا بھر میں شکنجہ کسا جا رہا ہے۔ مصری حکام نے لبنان کی جانب سے ان نوادرات کی بحفاظت واپسی پر دلی تشکر کا اظہار کیا ہے اور اس کارروائی کو ثقافتی ورثے کے تحفظ کی عالمی کوششوں میں ایک سنگِ میل قرار دیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ان نوادرات کو جلد ہی مصر کے متعلقہ عجائب گھروں میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا تاکہ عوام اور تاریخ کے شائقین اس قدیم ورثے کا مشاہدہ کر سکیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف تاریخی اشیاء کی اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے گمشدہ نوادرات کو ان کے اصل وطن واپس لانے کی راہیں بھی مزید ہموار ہوں گی۔