World
امریکہ کا اسرائیل کے لیے اربوں ڈالر کے اسلحے کی منظوری کا فیصلہ
امریکہ نے اسرائیل کے لیے دو اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر مالیت کے جدید ہتھیاروں اور دفاعی سازوسامان کی فراہمی کی منظوری دے دی ہے۔ اس تناظر میں مختلف عالمی اور مقامی میڈیا ذرائع نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
واشنگٹن اور یروشلم سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق امریکہ نے اسرائیل کو دو اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر مالیت کے نئے ہتھیاروں اور دفاعی سامان کی فراہمی کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مبینہ طور پر اسرائیلی سکیورٹی کو مزید مستحکم کرنا اور خطے میں اس کے دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس نئے دفاعی پیکج میں جدید عسکری سازوسامان اور اسلحہ شامل ہے جس کی منتقلی آنے والے مہینوں میں متوقع ہے۔ اس فیصلے سے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک نیا سفارتی اور سیاسی بحث چھڑ گئی ہے کیونکہ بین الاقوامی برادری پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ دوسری جانب مقامی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات کے دوران ہونے والے تنازعات میں انسانی جانوں کے ضیاع کے واقعات بھی تشویشناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔ ایک واقعے میں مبینہ طور پر ایک کم عمر نوجوان اس وقت جاں بحق ہو گیا جب وہ ایک زخمی پیرامیڈک کی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اتنی بڑی عسکری امداد کی فراہمی سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس نوعیت کے دفاعی معاہدوں پر اکثر تنقید کرتی آئی ہیں کیونکہ اس سے زمینی حقائق مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ اس حوالے سے امریکی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدے اتحادی ممالک کے دفاعی تحفظ کے طویل المدتی وعدوں کا حصہ ہیں، جن کا مقصد علاقائی استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس پیکج کے نفاذ اور اس کے خطے کی سیاست پر پڑنے والے اثرات کا مزید اندازہ لگایا جا سکے گا۔