Business
امریکی فیڈرل ریزرو کا تین سال بعد شرح سود میں اضافے کا اعلان
امریکی مرکزی بینک نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں پچیس بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر دیا ہے۔ تین سال میں یہ پہلا موقع ہے جب فیڈرل ریزرو نے شرح سود بڑھائی ہے۔
واشنگٹن: امریکی فیڈرل ریزرو نے طویل عرصے کے بعد بڑی پالیسی تبدیلی کرتے ہوئے شرح سود میں پچیس بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر دیا ہے۔ یہ گزشتہ تین سالوں میں پہلا موقع ہے کہ مرکزی بینک نے شرح سود کو بڑھایا ہے، جو کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں اہم وسطی انتخابات (مڈ ٹرم الیکشنز) بھی سر پر ہیں۔ امریکی معیشت اس وقت کئی چیلنجز سے دوچار ہے جن میں سپلائی چین کے مسائل اور صارفین کے لیے بڑھتی ہوئی اشیائے خوردونوش اور ایندھن کی قیمتیں شامل ہیں۔ مرکزی بینک کے اس اقدام کا مقصد معیشت کو مزید غیر مستحکم ہونے سے بچانا اور قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ وفاقی اوپن مارکیٹ کمیٹی نے اس فیصلے کے ذریعے واضح کر دیا ہے کہ وہ مہنگائی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اضافے کے بعد آنے والے مہینوں میں قرضوں کی لاگت میں اضافہ ہوگا، جس سے ہاؤسنگ اور آٹوموبائل کے شعبوں پر براہ راست اثر پڑے گا۔ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین پہلے ہی اشارہ دے چکے تھے کہ معیشت کو سنبھالنے کے لیے مانیٹری پالیسی کو سخت کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ حکومت اور سرمایہ کار اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ اس اقدام کے عام خریداروں اور کاروباری طبقات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔