LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات، گوتریس کا انتباہ

News Image
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ جیو پولیٹیکل تقسیم عالمی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مفلوج کر رہی ہے۔ انہوں نے کونسل میں فوری اور جامع اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک بار پھر عالمی سطح پر امن و امان برقرار رکھنے والے سب سے بڑے ادارے یعنی سلامتی کونسل میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مختلف ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل تقسیم اور اختلافات عالمی سطح پر پیدا ہونے والے سنگین بحرانوں کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی ڈھانچہ بیسویں صدی کے اواخر کے تناظر میں بنایا گیا تھا جو اکیسویں صدی کے نئے اور پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اب ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے درمیان ویٹو پاور کے غلط استعمال اور باہمی رسہ کشی کی وجہ سے یوکرین، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں جاری تنازعات کے حل کے لیے کوئی بھی متفقہ اور فیصلہ کن لائحہ عمل طے نہیں پایا جا رہا، جس سے اقوام متحدہ کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ سیکرٹری جنرل نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ، شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے اس کی تشکیل میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ترقی پذیر ممالک بالخصوص افریقہ اور لاطینی امریکہ کو اس اہم ادارے میں مناسب نمائندگی دی جانی چاہیے تاکہ عالمی جنوبی (Global South) کے خدشات کو بھی سنا جا سکے۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ تنگ نظر قومی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اجتماعی سلامتی کے اصولوں کو اپنائیں اور دنیا کو مزید بڑے تصادم سے بچانے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات پر فوری اتفاق کریں۔