Technology
اے آئی کے دور میں روایتی سیکیورٹی کی ناکامی اور ڈیجیٹل خطرات
مصنوعی ذہانت کے اس دور میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے طریقوں میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ روایتی سیکیورٹی سسٹمز نئے اور جدید خطرات کا مقابلہ کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) نے سیکیورٹی کے شعبے میں طاقت کے توازن کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ آج کے اس جدید دور میں سائبر کرمنلز اور حملہ آور فراڈ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے نہ صرف دھوکہ دہی کو انتہائی انسانی شکل دی جا رہی ہے بلکہ فراڈ کو انجام دینا بھی اب پہلے سے کہیں زیادہ تیز، آسان اور وسیع پیمانے پر ممکن ہو چکا ہے۔ روایتی سیکیورٹی سسٹمز جو ماضی میں بینکنگ اور آن لائن ٹرانزیکشنز کو محفوظ بنانے کے لیے بنائے گئے تھے، اب ان نئے اور پیچیدہ خطرات کے سامنے کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید فراڈ اب اتنی مہارت سے کیے جاتے ہیں کہ انہیں فوری طور پر شناخت کرنا عام سسٹمز کے بس کی بات نہیں رہی۔
دوسری جانب، دنیا بھر میں سیکیورٹی ادارے اور کمپنیاں اس بات کا اعتراف کر رہی ہیں کہ پرانے سیکیورٹی پروٹوکولز ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ پہلے جہاں فراڈ کے لیے انسانی مداخلت اور زیادہ وقت درکار ہوتا تھا، اب اے آئی الگورتھمز چند سیکنڈوں میں ہزاروں جعلی شناختیں اور فریب پر مبنی پیغامات تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس صورتحال نے مالیاتی اداروں، کارپوریشنز اور عام صارفین کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ روایتی پاس ورڈز، بنیادی تصدیقی طریقہ کار اور پرانے ڈیٹیکشن سسٹمز اب ان خودکار اور انتہائی نفیس حملوں کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
اس سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے اب سیکیورٹی کے شعبے میں بھی مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے نفاذ پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر روایتی سیکیورٹی ڈھانچے کو جدید ترین اے آئی بیسڈ ڈیفنس سسٹمز میں تبدیل نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل فراڈ کے واقعات میں مزید تشویشناک اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومتوں اور نجی اداروں کو مل کر ایسے نئے سیکیورٹی معیارات وضع کرنے ہوں گے جو نہ صرف تیزی سے ابھرنے والے خطرات کو بروقت پہچان سکیں بلکہ ان کا مؤثر انداز میں مقابلہ بھی کر سکیں۔