LIVE
Loading Breaking News...

کانگو میں ایبولا کا خطرہ برقرار، ڈব্লিউ ایچ او کا انتباہ

News Image
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔ شمالی کیوو میں کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے خبردار کیا ہے کہ جمہوری جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا کے خلاف جاری جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ اگرچہ دنیا کے دیگر خطوں میں اس بیماری کے انسداد کے لیے اہم پیش رفت حاصل کی گئی ہے، لیکن کانگو کے کچھ حصوں میں صورتحال تاحال تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ عالمی صحت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ خطرے کی گھنٹی اب بھی بج رہی ہے کیونکہ بیماری پر قابو پانے کی کوششوں کے باوجود چیلنجز برقرار ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، شمالی کیوو کے علاقے میں ایبولا کے کیسز میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے طبی عملے اور مقامی حکام کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ڈব্লিউ ایچ او کے سربراہ نے زور دیا ہے کہ جب تک وائرس کے اس نئے پھیلاؤ کو مکمل طور پر روکا نہیں جاتا، طبی ٹیمیں انتہائی الرٹ رہیں گی۔ متاثرہ علاقوں میں بروقت طبی امداد، ویکسینیشن اور حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ وباء کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جمہوری جمہوریہ کانگو طویل عرصے سے ایبولا جیسی خطرناک بیماریوں کا سامنا کرتا رہا ہے اور یہاں کے انفراسٹرکچر کے لیے ایسی وباء کا مقابلہ کرنا ہمیشہ سے ایک بڑا امتحان رہا ہے۔ بین الاقوامی اداروں اور مقامی حکومت کی جانب سے مشترکہ کوششیں جاری ہیں، تاہم فنڈز کی کمی اور حفاظتی رسائی کے مسائل بھی اس جنگ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے کانگو کی حکومت کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرے تاکہ وقت پر مناسب اقدامات اٹھائے جا سکیں۔ اگر اس مرحلے پر غفلت برتی گئی تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، لہذا ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ادارے مل کر اس جان لیوا وائرس کے خلاف متحد ہو کر کام کریں۔