World
سویڈن کا ایران مخالف اقدام، سفارتی ملازم ملک بدر
سویڈن نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ایرانی سفارت خانے کے ایک ملازم کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسٹاک ہوم کا کہنا ہے کہ ایران سے وابستہ گروہ ملک میں یہودی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کی سازش کر رہے تھے۔
اسٹاک ہوم (نیکسورا نیوز اردو) سویڈن کی حکومت نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی سفارت خانے کے ایک ملازم کو ملک بدر کر دیا ہے۔ سویڈش حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب انٹیلی جنس اداروں کو ایسے ٹھوس شواہد ملے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ منسلک مختلف گروہ سویڈن کی سرزمین پر یہودی اور اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچانے کی سازشوں میں ملوث ہیں۔ سویڈن کی وزارت خارجہ نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ملک کے اندر اس قسم کی سرگرمیوں کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق، سفارتی حیثیت کا غلط استعمال کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے اور ملک کے اندر امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سویڈش سکیورٹی پولیس نے حال ہی میں ملک میں بیرونی خطرات کے خلاف اپنی نگرانی کے نظام کو انتہائی سخت کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے یا تخریب کاری کے منصوبے کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس سفارتی اقدام کے نتیجے میں ایران اور یورپی یونین کے تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ سویڈن کا یہ سخت قدم خطے میں سکیورٹی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔