Politics
مارجری ٹیلر گرین کا ایران جنگ کے خلاف سخت بیان
سابق ریپبلکن رکن کانگریس مارجری ٹیلر گرین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس جنگ کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے تاکہ خطے میں مزید تباہی نہ ہو۔
واشنگٹن: امریکی سیاسی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب سابق ریپبلکن رکن کانگریس مارجری ٹیلر گرین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف چھیڑی جانے والی جنگ پر سخت تنقید کی۔ مارجری ٹیلر گرین، جو ماضی میں ٹرمپ کی قریبی حامی مانی جاتی تھیں، نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازعہ اور جنگی صورتحال کو اب مزید طول نہیں دینا چاہیے اور اسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ ان کے اس بیان نے سیاسی مبصرین کی توجہ مبذول کروا لی ہے کیونکہ یہ پالیسی امریکی قدامت پسند حلقوں میں بحث کا نیا موضوع بنتی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، مارجری ٹیلر گرین کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور دنیا بھر کے رہنما خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سابق کانگریس مین کا خیال ہے کہ امریکی عوام اس طرح کی غیر ضروری جنگوں کے متحمل نہیں ہو سکتے اور ملک کے اندرونی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عسکری کارروائیوں کے بجائے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ طویل المدتی امن کی راہ ہموار کی جا سکے اور بے گناہ انسانوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔
دوسری جانب، سیاسی حلقوں میں اس بیان کے مختلف اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف امن پسند حلقوں اور جنگ مخالف تنظیموں نے مارجری ٹیلر گرین کے اس مؤقف کا خیرمقدم کیا ہے، وہیں دوسری طرف بعض ریپبلکن رہنماؤں کی جانب سے اس پر تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی اور خاص طور پر ایران کے معاملے پر اب خود ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اختلافات اور نئی سوچ جنم لے رہی ہے، جو آئندہ آنے والے انتخابات اور پالیسی سازی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔