Pakistan
خواجہ آصف کا بیان: ییمن کشیدگی پر پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہے
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے خطرے یا کشیدگی کی صورت میں پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ انہوں نے پاک ترکیہ سعودی عرب دفاعی معاہدے کو خطے میں اجتماعی ڈیٹرنس قرار دیا۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگر ییمن کا تنازعہ مزید بڑھتا ہے اور صورتحال کشیدہ ہوتی ہے تو پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔ انہوں نے یہ اہم بیان سعودی اتحاد کی جانب سے حوثی باغیوں پر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے الزامات اور مسلم دنیا میں پیدا ہونے والی تشویش کے تناظر میں دیا۔ وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس مقامات کا دفاع ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے، اور اس مقصد کے لیے کسی بھی باضابطہ معاہدے کا انتظار کیے بغیر عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
خواجہ آصف نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے یعنی مکہ ڈیفنس الائنس کا ذکر کرتے ہوئے تصدیق کی کہ معاہدہ مکمل طور پر موجود ہے اور مؤثر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دنیاوی معاہد اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن حرمین شریفین کا تحفظ ہمارا ازلی اور مذہبی فریضہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے تحت اگر کسی رکن ملک کی علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا تو معاہدہ فعال ہو جائے گا اور اتحادی ممالک اس کا بھرپور دفاع کرنے کے پابند ہوں گے۔
دوسری جانب، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں وضاحت کی ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ کسی بھی قسم کے علاقائی عزائم کا حامل نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد خالصتاً اجتماعی ڈیٹرنس اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دہائیوں پرانے تعلقات کو ایک باضابطہ شکل دیتا ہے اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی بند کلب نہیں ہے بلکہ مستقبل میں امن اور سلامتی پر یقین رکھنے والے دیگر ممالک کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال خصوصاً اسرائیل اور ایران کے تنازع پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ایک ماہ کی جنگ کے بعد یہ واضح ہو چکا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کو اس جنگ میں دھکیلا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک اسرائیل کو ایک مشترکہ اتحاد کے ذریعے نہیں روکا جاتا، وہ خطے کے لیے ایک مستقل خطرہ بنا رہے گا۔ ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تہران کے لیے حوثی باغیوں کی حمایت کرنا ایک سفارتی غلطی ہوگی کیونکہ اس سے تنازع مزید پھیلنے کا خدشہ ہے۔