LIVE
Loading Breaking News...

پیٹرولیم ڈیلرز کا مطالبہ: فیول سبسڈی کی ادائیگی کا واضح میکانزم بنایا جائے

News Image
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں شروع ہونے والی فیول سبسڈی اسکیم کے تحت رقم کی بروقت ادائیگی کے لیے ایک واضح اور شفاف طریقہ کار بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ وہ فی لیٹر ایک سو روپے کا نقصان برداشت کرنے یا طویل عرصے تک ادائیگیاں رکنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
کراچی: پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں نافذ ہونے والی نئی فیول سبسڈی اسکیم کے تحت رقوم کی واپسی کے لیے فوری طور پر ایک واضح اور شفاف میکانزم وضع کیا جائے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی ڈی اے کے چیئرمین ملک خدا بخش اور دیگر عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ عوام کے لیے اس ریلیف پیکج کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن اس سے پیٹرول پمپ مالکان کے کاروبار کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی پیٹرول پمپ ڈیلر فی لیٹر ایک سو روپے کا بڑا نقصان خود برداشت کرنے یا حکومتی ادائیگیاں طویل عرصے تک التواء کا شکار رہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اس ریلیف اسکیم کا مقصد موٹر سائیکلوں، رکشاؤں اور آٹھ سو سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ سے بچانا ہے۔ اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکل اور آٹو مالکان کو بیس لیٹر جبکہ چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو تیس لیٹر ماہانہ کوٹے پر فی لیٹر ایک سو روپے کی سبسڈی فراہم کی جانی ہے۔ تاہم، پیٹرولیم ڈیلرز کا اصل اعتراض اس بات پر ہے کہ ان کی لگائی گئی رقم کی واپسی کا ذمہ دار کون ہوگا اور ادائیگی کا وقت کیا ہوگا۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے پیٹرولیم ڈویژن، اوگرا اور وزارت خزانہ کے حکام سے رابطہ کر چکے ہیں، لیکن کسی کے پاس بھی اس معاملے پر کوئی حتمی اور تسلی بخش جواب موجود نہیں ہے۔ ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کے مطابق اوگرا اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ سبسڈی کی ادائیگی ممکنہ طور پر پیٹرولیم ڈویژن کرے گا، جبکہ پیٹرولیم ڈویژن کا موقف ہے کہ یہ ادائیگیاں وزارت خزانہ کے ذمہ ہیں۔ دوسری جانب وزارت خزانہ کے ایک عہدیدار نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اسٹیٹ بینک ایک دو دن میں فنڈز جاری کر دے گا۔ پی پی ڈی اے کے وائس چیئرمین طارق حسن اور انور کمال نے بھی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے چودہ ہزار ڈیلرز گزشتہ تین روز سے حکومت سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں مگر متعلقہ حکام کی جانب سے رابطہ کاری کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ڈیلرز نے متنبہ کیا ہے کہ اگر بروقت رقوم کی واپسی کو یقینی نہ بنایا گیا تو بہت سے پمپ مالکان اس اسکیم کا حصہ بننے سے انکار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔