Politics
پاکستان میں ورچوئل گرڈ سسٹم اور پاور سیکٹر میں اصلاحات کا اعلان
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ حکومت ملک میں ورچوئل گرڈ سسٹم متعارف کرانے کے لیے کام کر رہی ہے جس کے تحت صارفین بجلی پیدا اور ذخیرہ کر سکیں گے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کی کمیٹی کے اجلاس میں بتایا کہ بجلی کی چوری اور لائن لاسز کی وجہ سے ملک کے بعض فیڈرز پر عارضی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت ملک میں ایک جدید 'ورچوئل گرڈ سسٹم' متعارف کرانے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ اس نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین کو یہ سہولت حاصل ہوگی کہ وہ نہ صرف خود بجلی پیدا کر سکیں گے بلکہ اسے باآسانی ذخیرہ بھی کر سکیں گے۔ وزیر توانائی نے مزید بتایا کہ ورچوئل گرڈز کے لیے ضوابط اور رولز تیار کرنے کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے، اور توقع ہے کہ رواں مالی سال کی آخری سہ ماہی تک ان ضوابط کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں یعنی ڈسکوز کو بھی یہ ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ پاور سسٹم کی بہتری اور انرجی سٹوریج کو فروغ دینے کے لیے اپنے گرڈز پر بیٹریاں نصب کریں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس کے دوران وزیر توانائی کو کڑے سوالات کا سامنا کرنا پڑا جہاں کمیٹی کے چیئرمین محمد ادریس نے ملک میں طویل بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ اس موقع پر اعتراف کرتے ہوئے اویس لغاری نے بتایا کہ ملک کے تقریباً چودہ ہزار پانچ سو فیڈرز میں سے تقریباً ساڑھے تین ہزار فیڈرز پر بجلی چوری اور لائن لاسز کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایک سال کے اندر لوڈشیڈنگ کو فیڈرز کے بجائے ٹرانسفارمرز کی سطح پر منتقل کر دیا جائے گا تاکہ پورے فیڈرز کو بند کرنے کے بجائے صرف مخصوص علاقوں تک محدود رکھا جا سکے، جس سے باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین متاثر نہیں ہوں گے۔
اجلاس کے دوران ایل این جی کارگوز کی درآمد اور مہنگے ایندھن کے معاملے پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے پٹرولیم ڈویژن کو ایل این جی کارگو کے حصول میں مشکلات پیش آئیں، اور ماضی میں تیس ملین ڈالر میں ملنے والا گیس کارگو اب پچانوے ملین ڈالر سے زائد میں پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے اخراجات کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت نے کسی بھی آزاد پاور پروڈیوسر یعنی آئی پی پی کے ساتھ کوئی نیا معاہدہ نہیں کیا اور میڈیا میں آنے والی رپورٹس بے بنیاد ہیں۔
کمیٹی کے اجلاس میں حکمران جماعت کے رکن قومی اسمبلی رانا محمد حیات نے حکومت کی توانائی پالیسیوں اور کارکردگی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی نہیں آ رہی اور عوام کے لیے زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ موجودہ پالیسیوں سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ملک کی بہتری کے بجائے صرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے میں مصروف ہے۔ تاہم، وزیر توانائی اویس لغاری نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک ذمہ دار فورم پر غیر ذمہ دارانہ گفتگو قرار دیا، جبکہ توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات اور بہتری کے لیے حکومتی عزم کو دہرایا۔