Sports
پاکستان ہاکی ٹیم کا ایشین چیمپئنز ٹرافی نیوٹرل مقام پر کھیلنے کا مطالبہ
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ایشین ہاکی فیڈریشن سے باضابطہ درخواست کی ہے کہ آئندہ ماہ ہونے والی ایشین چیمپئنز ٹرافی کو بھارت سے باہر منتقل کیا جائے یا پاکستان کے تمام میچز کسی نیوٹرل مقام پر رکھے جائیں۔ پی ایچ ایف کا کہنا ہے کہ یہ قدم دونوں ممالک کے درمیان حساس دو طرفہ صورتحال کے پیش نظر کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ایشین ہاکی فیڈریشن (اے ایچ ایف) سے باضابطہ طور پر یہ مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ ماہ شیڈولڈ مردوں کی ایشین چیمپئنز ٹرافی کو بھارت سے باہر منتقل کیا جائے یا پھر پاکستان کے تمام میچز کسی نیوٹرل مقام پر کروائے جائیں۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان موجود حساس دو طرفہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ پی ایچ ایف کے صدر محی الدین احمد وانی نے تصدیق کی ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں اے ایچ ایف کو باضابطہ خط لکھ دیا گیا ہے تاکہ کھلاڑیوں اور ٹیم کے عملے کے لیے ایک محفوظ اور باوقار ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔
پی ایچ ایف کے اس نئے اقدام کے بعد پاکستان کی جندھر اور موہالی میں شیڈولڈ ٹرافی کے میچز میں شرکت اس وقت تک مشروط ہو گئی ہے جب تک ایشین ہاکی فیڈریشن اس تجویز پر مثبت ردعمل ظاہر نہیں کرتی۔ تاہم، فیڈریشن نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ٹرافی میں شرکت اور بھارت سمیت تمام ایف آئی ایچ رکن ممالک کے خلاف کھیلنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ پی ایچ ایف کا موقف ہے کہ ٹیم ٹورنامنٹ سے دستبردار نہیں ہو رہی بلکہ وہ چاہتی ہے کہ سیکورٹی اور سیاسی حساسیت کے پیش نظر میچز کسی غیر جانبدار ملک میں منعقد کیے جائیں۔
اس سے قبل بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان ٹرافی میں شرکت کرے گا، جس کے فوراً بعد پی ایچ ایف نے واضح کیا تھا کہ اس دورے کے حوالے سے حتمی فیصلہ حکومتی اجازت سے مشروط ہے۔ ٹورنامنٹ میں میزبان بھارت کے علاوہ پاکستان، چین، جاپان، ملائیشیا اور جنوبی کوریا کو شرکت کرنی ہے۔ شیڈول کے مطابق لیگ میچز جندھر جبکہ سیمی فائنلز اور فائنل موہالی میں کھیلے جانے ہیں، اور پاکستان اور بھارت کا روایتی مقابلہ یکم نومبر کو جندھر میں رکھا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سال بھی پاکستان نے کشیدہ تعلقات کے باعث تامل ناڈو میں ہونے والے جونیئر ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کی تھی۔ پی ایچ ایف کے حکام کو امید ہے کہ ایشین ہاکی فیڈریشن دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے فروغ اور ٹیم کی سلامتی کے لیے اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی تاکہ خطے میں ہاکی کے کھیل کو نقصان پہنچائے بغیر تمام ٹیموں کی شرکت کو ممکن بنایا جا سکے۔