LIVE
Loading Breaking News...

کامن ویلتھ کانفرنس: ایاز صادق کی تقریر میں بھارتی وفد کی رکاوٹیں

News Image
جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں ہونے والی 69ویں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس کے دوران بھارتی مندوبین نے سردار ایاز صادق کی تقریر میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ کانفرنس میں میزبان اور جمیکا کے اسپیکر کی مداخلت پر بھارتی وفد کو خاموش رہنے یا ہال چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔
اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں جاری 69ویں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس کے دوران ایک اہم اجلاس میں اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب بھارتی مندوبین نے پاکستانی وفد کے سربراہ اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی تقریر میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ سردار ایاز صادق اس اجلاس سے خطاب کر رہے تھے اور ان کا موضوع موسمیاتی موافقت اور موسمیاتی انصاف تھا۔ ذرائع کے مطابق بھارتی مندوبین نے بارہا مداخلت کرنے کی کوشش کی اور فوٹیج میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے مائیکروفون حاصل کرنے اور کارروائی کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش کی۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ سردار ایاز صادق نے اپنی تقریر کے دوران کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر "واٹر ٹیررازم" یا آبی دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا، جو کہ بدلتے ہوئے موسمیاتی حالات، پانی کے وسائل اور موسمیاتی انصاف کے وسیع تر تناظر میں تھا۔ بھارتی وفد کی جانب سے مائیکروفون چھیننے کی کوششوں نے سیشن کے ماحول کو متاثر کیا، جس پر فوری نوٹس لیتے ہوئے میزبان اور جمیکا کے اسپیکر نے مداخلت کی۔ انہوں نے بھارتی مندوبین کو واضح ہدایت کی کہ یا تو وہ خاموش بیٹھیں یا پھر ہال سے باہر چلے جائیں۔ اجلاس میں موجود دیگر شرکاء نے بھی بھارتی رویے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور انہیں تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود موسمیاتی موافقت اور انصاف پر جاری بحث بلا تعطل جاری رہی۔ اپنے خطاب میں سردار ایاز صادق نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک پرنسپل موقف اپنایا اور عالمی برادری کی ذمہ داریوں پر زور دیا۔ انہوں نے دریاؤں میں پانی کے اچانک بہاؤ اور پانی روکے جانے جیسے مسائل کا ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی پالیسیاں عوامی شمولیت اور جمہوری اداروں کی نگرانی کے بغیر مؤثر ثابت نہیں ہو سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور اس عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون اور سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔