LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی افریقہ کا امریکہ کی نئی ویزا پابندیوں پر شدید ردعمل

News Image
جنوبی افریقہ نے نسلی مساوات کی پالیسیوں پر امریکی ویزا پابندیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ پریٹوریا کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی یہ قدم دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو مزید کشیدہ کر رہا ہے۔
جنوبی افریقہ نے بدھ کے روز امریکہ کی جانب سے نسلی مساوات کی پالیسیوں پر عائد کی جانے والی نئی ویزا پابندیوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پریٹوریا نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس کے قوانین کو مسخ کر رہی ہے، جس سے واشنگٹن اور افریقہ کی ایک انتہائی با اثر طاقت کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ یہ تنازعہ نسلی، تجارتی اور سفارتی محاذ پر جاری کشیدگی کی تازہ ترین کڑی ہے، جس کے دوران واشنگٹن نے امداد میں کٹوتیاں، ٹیرف کا نفاذ اور سفیروں کی تبدیلی جیسے اقدامات کیے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا تھا کہ نئی ویزا پابندیوں کا ہدف وہ افراد ہوں گے جو جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کو فروغ دیتے ہیں، تشدد کی ترغیب دیتے ہیں یا معاوضے کے بغیر زمین ضبط کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے وزیر خارجہ رونالڈ لامولا نے ایک بیان میں کہا کہ پریٹوریا اس اقدام کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور واشنگٹن ایسے عناصر کے بیانیے کو فروغ دے رہا ہے جو ملک کی پوسٹ اپارتھائیڈ اصلاحات کے مخالف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کی تلخیوں کو مٹانا اور جمہوری اقدار پر مبنی معاشرہ قائم کرنا ایک آئینی تقاضا ہے۔ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ویزا پابندیوں کی پالیسی اس معاملے میں اٹھائے جانے والے اقدامات کا صرف پہلا مرحلہ ہے۔ امریکی سفیر برنٹ بوزیل کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں امریکہ کے پختہ عزم کو ظاہر کرتی ہیں۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے جنوبی افریقہ کی زمین اور روزگار کی مساوات سے جڑے اصلاحاتی قوانین پر تنقید کرتے آئے ہیں، جن کا مقصد ملک میں نسلی خلیج کو ختم کرنا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس اقدام کو جنوبی افریقہ کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سفارتی روابط کو بحال رکھنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔