LIVE
Loading Breaking News...

وزیر آباد واقعے پر پولیس کا مؤقف: وزیراعلیٰ کے پی کا دعویٰ بے بنیاد قرار

News Image
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے وزیر آباد میں قاتل پکڑے جانے کے دعوے کو گوجرانوالہ پولیس نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ حملہ آور دراصل وزیراعلیٰ کی سیکیورٹی پر مامور پولیس کانسٹیبل تھا جسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے بدھ کے روز وزیر آباد میں اپنے دورے کے دوران ایک مبینہ قاتل کو دبوچنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم گوجرانوالہ پولیس نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حراست میں لیا جانے والا شخص کوئی قاتل نہیں بلکہ وزیراعلیٰ کی سیکیورٹی پر مامور ایک کانسٹیبل تھا۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ ان دنوں 27 ستمبر کو تحریک انصاف کے ملک گیر احتجاجی مظاہرے سے قبل پارٹی کارکنان کو متحرک کرنے کے لیے پنجاب کے دورے پر موجود ہیں۔ بدھ کی صبح جاری کردہ اپنے ایک ویڈیو بیان میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا تھا کہ سیالکوٹ میں ان کے قیام کے دوران انتظامیہ کی جانب سے مشکلات پیدا کی گئیں، بجلی کی فراہمی معطل کی گئی اور جنریٹرز کو خراب کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر آباد پہنچنے پر ان کی سیکیورٹی ٹیم نے ایک مشکوک اور مسلح شخص کو پکڑ لیا جو مبینہ طور پر انہیں قتل کرنے کے ارادے سے آیا تھا اور بعد میں اسے مقامی ایس ایچ او کے حوالے کر دیا گیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا۔ تاہم اس تمام صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے گوجرانوالہ پولیس اور وزیر آباد سٹی پولیس اسٹیشن نے اپنے الگ الگ بیانات میں واضح کیا کہ مذکورہ شخص کانسٹیبل مقدس علی ہے جو باضابطہ طور پر وزیر اعلیٰ کی سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ کانسٹیبل کو وزیراعلیٰ کی پروٹیکشن ٹیم کے ارکان کی جانب سے شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایس ایچ او سٹی وزیر آباد کی مداخلت کے بعد بڑی مشکل سے اسے بچایا گیا۔ پولیس حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ موقع پر ہی کانسٹیبل کی شناخت اور اس کا محکمانہ شناختی کارڈ بھی پیش کر دیا گیا تھا، اس کے باوجود اسے حقائق کے برعکس قاتل قرار دینا انتہائی تشویشناک اور ناقابل قبول ہے۔ دوسری جانب پنجاب کی اطلاعات کی وزیر عظمیٰ بخاری نے بھی پولیس کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ وزیر آباد پہنچتے ہی انہیں اس قسم کی صورتحال کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعلیٰ کے اس دورہ پنجاب کے دوران پہلے بھی لاہور میں مبینہ طور پر اغوا کیے جانے اور دیگر سیاسی تنازعات کے حوالے سے دعوے اور جوابی دعوے سامنے آ چکے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں صوبائی حکومتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور احتجاجی تحریک کے پیش نظر سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ ہو چکا ہے۔