World
سعودی عرب اور یمن کشیدگی: مشرق وسطیٰ جنگ میں شدت
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران سعودی قیادت والے اتحاد نے یمن میں فضائی حملے تیز کر دیے ہیں۔ دوسری جانب حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے مختلف شہروں کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان مسلح تصادم میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی قیادت والے اتحاد نے یمن میں شدید بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاکہ حوثی ملیشیا کے بڑھتے ہوئے خطرات کا مؤثر جواب دیا جا سکے اور خطے میں امن کو بحال رکھا جا سکے۔ اس کشیدگی کے ردعمل میں یمن کے حوثی باغیوں نے بھی سعودی عرب کے اندرونی علاقوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جس سے خطے میں ایک نئی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
حالیہ چند دنوں کے دوران صورتحال اس وقت مزید خراب ہوئی جب حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے تین مختلف شہروں پر بیک وقت میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ان حملوں کے نتیجے میں تیرہ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ اہم تنصیبات کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مکہ معظمہ کے جنوبی علاقے میں حوثی باغیوں کا ایک بارود سے لیس ڈرون کامیابی سے مار گرایا ہے، جو مقدس شہر کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا تھا۔ سعودی اتحاد نے خبردار کیا ہے کہ مقدس مقامات اور شہروں کو نشانہ بنانا ایک سرخ لکیر ہے جسے عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب حوثی باغیوں کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فضائی دفاعی صلاحیتوں نے جنگی کارروائیوں کے دوران سعودی عرب کا ایک ایف پندرہ (F-15) لڑاکا طیارہ بھی مار گرایا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال نے بین الاقوامی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور علاقائی طاقتوں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور مشرق وسطیٰ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو مزید تباہی سے روکا جا سکے۔